Monday, 4 April 2016

سرّی اور جہری نمازوں کی حکمت

!!! سرّی اور جہری نمازوں کی حکمت!!! 
مقرر : حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند 
ترتیب دادہ : عادل سعیدی پالن پوری 


        
ایک نوجوان میرے پاس آیا، یہ ٹورنٹو کا واقعہ ہے، اس نے سوال کیا: دو نمازیں:ظہر اور عصر خاموش کیوں ہیں؟ اور تین نمازیں: مغرب، عشاء اور فجر جہری کیوں ہیں؟ یہ ایک دقیق مسئلہ ہے ، ہمارے طلبہ بھی اس کو نہیں سمجھ پاتے، وہ تو کالج میں پڑھنے والا تھا۔ 
کبھی الزامی جواب دینا مفید ہوتا ہے:

        
خیر میں نے اس کو پہلے الزامی جواب دیا، میں نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی، کہ طالب علموں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی بات پوچھی تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: فی کل صلاۃ نقرأ، فما أسمعنا رسول اللہ ﷺ، أسمعناکم، و ما أخفیٰ علینا، أخفینا منکم  ( رواہ النسائی و ابوداؤد، جامع الاصول حدیث نمبر ۳۴۷۳ )  جو نمازیں حضور اکرم ﷺ نے ہمیں سرّی پڑھائی ہیں، ہم بھی وہ نمازیں سرّی پڑھاتے ہیں، اور جو نمازیں جہری پڑھائی ہیں، ہم بھی وہ نمازیں جہری پڑھاتے ہیں۔ 

        
یہ حدیث سناکر میں نے سائل سے پوچھا: بتاؤ! دو نمازیں سرّی اور تین نمازیں جہری کیوں ہیں؟ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے، یا نہیں؟ اگر نہیں جانتے تھے، تو میرا علم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ نہیں، میں اس کو کہاں سے جانوں گا؟ اور اگر جانتے تھے، تو کیوں نہیں بتایا؟ لامحالہ یہی کہنا ہوگا، کہ طالب علموں کی علمی سطح اتنی بلند نہیں تھی، کہ وہ اس سوال کا جواب سمجھ سکتے، پس کیا آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے آگے ہیں؟ آپ کالج میں پڑھتے ہیں، علمِ دین برائے نام جانتے ہیں، اور وہ دین کے طالب علم تھے، حدیث شریف کے طالب علم تھے، پس اگر میں سمجھاؤں، تو کس طرح سمجھاؤں؟ اور آپ کیا سمجھیں گے؟ وہ خاموش ہوگیا، یہ بولتی بند کرنے کا طریقہ ہے، اور یہ طریقہ حضرت شیخ الھند قدس سرہ کا تھا، آپ پہلے الزامی جواب دیتے تھے، اور بولتی بند کردیتے تھے، پھر تحقیقی جواب دیتے تھے، جب تک معترض کے دماغ کی کھڑکیاں بند نہ کردیں، وہ جواب کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، اس لئے پہلے الزامی جواب دے کر خاموش کردینا چاھئے، پھر صحیح بات بتاؤ، تو وہ غور سے سنے گا، اور سمجھے گا، ورنہ محنت رائگاں جائے گی۔
تحقیقی جواب :

        
پھر میں نے اس سے پوچھا: آپ کی شادی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں! میں نے کہا: تم میاں بیوی گپ کب کرتے ہو؟ دن میں یا رات میں؟ اس نے کہا: رات میں، دن میں تو ضروری باتیں کرتے ہیں، میں نے کہا: آپ کے سوال کا یہی جواب ہے، دن کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ زیادہ باتیں کرنے کو جی نہیں چاہتا، اسی لئے سنیما ، ٹھیٹر اور گانے بجانے کے پروگرام رات میں ہوتے ہیں، کیونکہ رات کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے انبساط رکھا ہے، اوردن کی فطرت میں انقباض، اور جب طبیعت میں انقباض ہو تا ہے، تو نہ سنانے کو جی چاہتا ہے نہ سننے کو، اس لئے دن کی نمازیں خاموش ہیں، اور رات میں طبیعت میں انبساط ہوتا ہے، سنانے کو بھی جی چاہتا ہے، اور سننے کو بھی، اس لئے رات کی نمازیں جہری ہیں۔

        
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دن کی فطرت میں انقباض، اور رات کی فطرت میں انبساط کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دن کو اللہ تعالیٰ نے معاش کا وقت بنایا ہے، اگر اس میں انبساط رکھا جاتا تو آدمی ٹی وی دیکھتا رہتا ، گاتا بجاتا رہتا، بیوی سے گپ کرتا رہتا، نہ جوب (کام) پر جاتا، نہ شوپ( دوکان) پر، اس لئے اس میں انقباض رکھا؛ تاکہ آدمی صبح اٹھ کر نہا دھو کر نوکری پر پہنچ جائے، یا دوکان کھول کر بیٹھ جائے، اور رات میں کوئی دھندا نہیں ، وہ سونے کے لئے ہے، اس لئے رات میں انبساط رکھا، اور شریعت نے انقباض وانبساط کا احکام میں لحاظ رکھا ، اسی لئے دن کی نمازوں کو سری اور رات کی نمازوں کو جہری کردیا۔

        
اس نے سوال کیا: پھر جمعہ اور عیدین میں جہری قرأت کیوں ہے؟ میں نے اس سے پوچھا: آپ کے یہاں روزِ زفاف ہوتا ہے یا نہیں؟ شادی کے بعد رخصی دن میں عمل میں آتی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا: دن میں بھی عمل میں آتی ہے (یورپ اور امریکہ میں دن میں بھی رخصتی ہوتی ہے) میں نے کہا: جب رخصتی دن میں ہو، اور روز ِ زفاف ہو تو پہلی ملاقات میں میاں بیوی گپ کرتے ہیں، یا نہیں؟ اس نے کہا: کرتے ہیں، میں نے کہا: یہی آپ کے سوال کا جواب ہے، اس نے کہا: میں سمجھا نہیں۔ میں نے کہا: یہ موقع کی بات ہے اور خاص موقعوں کے احکام الگ ہوتے ہیں، جمعہ کے دن اورعید کے دن آدمی نہاتا ہے، نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہنتا ہے، خوشبو لگاتا ہے، اور بڑے اجتماع میں پہنچتا ہے،  ایسے موقعہ پر طبیعت میں انبساط پیدا ہوجاتا ہے، اس لئے قرآن کریم زور سے پڑھا جاتا ہے ۔

_ _ _ _ _     _ _ _ _ _    _ _ _ _ _    _ _ _ _ _    _ _ _ _ _ 

مکمل تحریر >>

روزے اور زکوٰۃ کے ضروری مسائل

!!! روزے اور زکوٰۃ کے ضروری مسائل!!!

مقرر : حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم ، شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

ناقل : عادل سعیدی پالن پوری


       
خطبۂ مسنونہ کے بعد : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ } ائے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! روزے تم پر لازم کئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے والوں پر لازم کئے گئے ہیں ، تاکہ تم پرہیزگار بنو ۔

دو قسم کی عبادتیں :

       
بزرگو اور بھائیو ! اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی عبادتیں رکھی ہیں ، بدنی اور مالی ، بدنی : وہ عبادتیں ہیں ، جن کا تعلق بدن سے ہے ، یعنی ان میں بدن استعمال ہوتا ہے ، مالی : وہ عبادتیں ہیں ، جن میں مال استعمال ہوتا ہے ، بدن استعمال نہیں ہوتا ، اور ایک تیسری قسم ، دونوں سے مرکب عبادت ہے ، اس میں بدن بھی استعمال ہوتا ہے ، اور مال بھی ، اول دو کو سمجھ لیں ، تو تیسری خود بخود سمجھ میں آجائےگی ۔

بدنی عبادتیں دو ، اور مالی عبادت ایک کیوں ہے ؟

       
اللہ تعالیٰ نے انسان کے بدن میں روح رکھی ہے ، اور روح کی دو صفتیں ( حالتیں ) ہیں ، ایک : ملَکیت یعنی فرشتوں جیسی استعداد ، دوسری : بہیمیت یعنی جانوروں جیسی استعداد ، بالفاظِ دیگر : ایک لمۂ خیر ہے ، دوسرا لمۂ شر ( لمة : اثر ) قرآن کریم میں ہے : {وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا } ( الشمس آیت نمبر ٧ )  قسم ہے نفس ( روح ) کی ، اور اس نفس کو درست بنانے کی ، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کا نفس نہایت عمدہ بنایا ہے ، {فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا } پس اللہ نے اُس نفس کو اُسے نیکوکاری اور اس کی بدکاری الہام کی ، یہی روح کی دو صفتیں ( ملکیت اور بہیمیت ) ہیں ، قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے : {وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ} ( البلد آیت نمبر ١٠ ) ہم نے انسان کو دونوں راہیں سُجھادیں ، نیکوکاری کی راہ بھی ، اور بدکاری کی راہ بھی ، اب انسان کو اختیار ہے ، نیکوکاری کی راہ چلےگا ، تو جنت میں جائےگا ، اور بدکاری کی راہ چلےگا ، تو جہنم رسید ہوگا ۔

       
یہ جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو راہیں سمجھائی ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ انسان کی روح میں اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کی صلاحیتیں رکھی ہیں ، اب ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت میں ایسے اعمال ، اور ایسی عبادتیں رکھی جائیں ، جو ملکیت ( نیکوکاری ) کو بڑھاوا دیں ، اور بہیمیت ( بدکاری ) کو لگام دیں ، چنانچہ نماز رکھی گئی ، نیکوکاری کو بڑھاوا دینے کےلئے ، لمۂ خیر کی ترقی کےلئے ، اور روزہ رکھا گیا ، نفسانی تقاضے کو دبانے کےلئے ، آدمی میں تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرنے کےلئے ، لمۂ شر کو دبانے کےلئے ، اسی کو قرآن کریم میں کہا گیا ہے : { لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ } یعنی روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں ، کہ تم پرہیزگار بنو ۔

       
سوال : ہمارے روزے تو پرہیزگاری پیدا نہیں کرتے ؟

       
جواب : پیدا کرتے ہیں ، آپ کو غلط فہمی  ہے کہ پیدا نہیں کرتے ، آپ رمضان المبارک سے پہلے اپنے نفس کی حالت کا جائزہ لیں ، اور رمضان المبارک کے بعد اپنے نفس کا جائزہ لیں ، آپ خود فرق محسوس کریں گے ، تھوڑا یا زیادہ یہ الگ بات ہے ، فرق ہر شخص محسوس کرے گا ، البتہ یہ فرق غور کرنے سے محسوس ہوگا ، واضح طور پر محسوس نہیں ہوگا ، اور واضح طور پر فرق محسوس نہ ہونے کی دو وجہیں ہیں :

       
پہلی وجہ : ہم لوگ جہاں تک گنجائش ہوتی ہے ، دباکر کھاتے ہیں ، افطاری میں بھی ، اور سحری میں بھی ، یہ جو صورت ہمارے کھانے کی ہے ، اس سے ہمیں روزوں کی نورانیت محسوس نہیں ہوتی ، حضرت شیخ زکریا قدس سرہ کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے ، ‌‌"‌‌اکابر کا رمضان ‌‌"‌‌ نامی ، اس کو پڑھو !  اکابر رمضان میں افطاری کتنی کھاتے تھے ، اور سحری کتنی کھاتے تھے ، کیا ان کا کھانے کو جی نہیں چاہتا تھا ؟ چاہتا تھا ، مگر انہیں روزوں کی نورانیت حاصل کرنی تھی ، اور وہ نورانیت کم خوری سے حاصل ہوتی ہے ، اس کتاب میں یہ واقعہ ہے کہ بڑے حضرت رائپوری شاہ عبدالرحیم صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں سحری میں صرف ایک فنجان چائے ، اور ایک نیم برشت انڈا لیا کرتے تھے ، افطاری میں کچھ نہیں لیتے تھے ، اور فرماتے تھے کہ چونکہ صومِ وصال سے حضور اکرم ﷺ نے منع کیا ہے ، اس لئے اتنا لے لیتا ہوں ، ورنہ مجھے اس کی بھی ضرورت نہیں ۔

صومِ وصال سے منع کرنے کی وجہ :

       
خود نبی پاک ﷺ صومِ وصال رکھتے تھے ، پندرہ دن کا ایک روزہ رکھتے تھے ، صحابہ ؓ نے دیکھا تو انہوں نے بھی شروع کیا ، حضور اکرم ﷺ نے منع فرمایا ، صحابہ ؓ نے عرض کیا : اِنّک تُوَاصلُ یارسولَ اللہِ ! آپ تو صومِ وصال رکھتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : اِنِّی لَسْتُ کَأحَدِکُمْ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَ یَسْقِیْنِیْ ، میرا معاملہ اور ہے ، اور تمہارا معاملہ اور ہے ، مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ، تمہیں کہاں کھلائے گا ، پلائے گا ، جو میری حرص کرتے ہو ، مگر اس کے باوجود حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت فاروق اعظم ، حضرت عائشہ ، اور حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنھم ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے تھے ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کہ حضور نے جو امت کو منع کیا ہے ، وہ اِبْقَاءً علیھم : ان پر شفقت فرماتے ہوئے منع کیا ہے ، ورنہ فی نفسہ صومِ وصال جائز ہے ، اسی لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور انکے علاوہ دوسرے صحابہ ؓ  ایک ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے تھے ، پس کیا ان کے پاس کھانا نہیں تھا ؟ تھا مگر چونکہ ان کو روزے کا مقصد حاصل کرنا تھا ، اس لئے وہ کم کھایا کرتے تھے ۔

       
اور روزوں کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے : غریبوں کی غریبی کو یاد کرنا ، مگر پورے رمضان ہمیں غریب یاد نہیں آتے ، کیونکہ ہمارے پیٹ میں جتنی گنجائش ہوتی ہے ، اتنا ہم بھر لیتے ہیں ، ایک وجہ تو نورانیت کم محسوس ہونے کی یہ ہے ۔

       
دوسری وجہ : روزوں کو گناہوں سے اور لغویات سے پاک رکھنا ضروری ہے ، آپ غسل خانے میں نہانے کےلئے جائیں ، اور ایگزاسٹر کھولے بغیر نہائیں ، تو نہانے کے بعد سارا آئینہ میلا ہوجائےگا ، آپ خود کو اس میں نہیں دیکھ سکیں گے ، اور اگر آپ پہلے ایگزاسٹر کھول دیں ، پھر نہائیں ، تو جب آپ کھڑے ہونگے ، آئینہ صاف ہوگا ، اور آپ اس میں خود کو دیکھ سکیں گے ، اسی طرح ہم روزہ رکھتے ہیں ، مگر ایگزاسٹر نہیں کھولتے ، جھوٹ بولتے رہتے ہیں ، گالیاں دیتے رہتے ہیں ، دنیا بھر کی غیبتیں کرتے رہتے ہیں ، الزامات اور تہمتیں لگاتے رہتے ہیں ، صبح سے شام تک ہم یہ سارے کام کرتے رہتے ہیں ، پس آئینہ تو میلا ہونا ہی ہے ، اور جب آئینہ میلا ہوگیا ، تو روزوں کے انوار کہاں سے نظر آئیں گے ، اسی لئے حدیث شریف میں آیا ہے : مَنْ لمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ ، وَ العَمَلَ بِہٖ ، فَلَیْسَ للہِ حَاجَةٌ فِیْ أنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَ شَرَابَہٗ ، جس نے روزے میں جھوٹی بات نہیں چھوڑی ، غلط کام نہیں چھوڑا ، اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں ، جو چھوڑنا تھا ، ہ تو چھوڑا نہیں ، معلوم ہوا کہ روزہ میں صرف کھانا پینا چھوڑنا ہی مطلوب نہیں ، بلکہ لغو اور بےکار باتوں سے اپنے آپ کو بچانا بھی ضروری ہے ، جب آپ ایسا روزہ رکھیں گے ، تو روزوں کے انوار محسوس کریں گے ، ہمیں جو روزوں کی نورانیت کم محسوس ہوتی ہے ، اس کی یہ دو وجہیں ہیں ۔

       
غرض روزہ جو بدنی عبادت ہے ، وہ بہیمیت پر ، لمۂ شر پر ، کنٹرول کرنے کےلئے ہے ، تاکہ آدمی میں تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا ہو ، اور نماز بھی بدنی عبادت ہے ، اور وہ اس لئے ہے ، کہ آدمی میں نورانیت پیدا ہو ، ملکیت ابھرے ، لمۂ خیر ابھرے ، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو ، اللہ کی یاد آئے ، قرآن کریم میں ہے : { وَ لَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ } اللہ تعالیٰ کی یاد ، نماز کا بڑا فائدہ ہے ، اور حدیث شریف میں ہے ، کہ جب بندہ سجدہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے قدموں پر سجدہ کرتا ہے ، یعنی اتنا قریب ہوجاتا ہے ۔

       
بہرحال نماز کا مقصد یہ ہے ، اور روزے کا مقصد وہ ہے ، اور چونکہ ایسی کوئی بدنی عبادت نہیں ، جس سے دونوں مقصد حاصل ہوں ، اس لئے بدنی عبادتیں دو رکھیں ، اور مالی عبادت فقط ایک رکھی ، کیونکہ مال میں دو مقصد نہیں ، اور وہ مالی عبادت : زکوٰۃ ہے ، اور صدقة الفطر اور نفلی صدقات اسی لائن کی چیزیں ہیں ۔

حج بدنی عبادت ہے ، یا مالی ؟

       
امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : حج بدنی عبادت ہے ، اور ائمۂ ثلاثہ کہتے ہیں : حج مال اور بدن سے مرکب ہے ، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ شخص جس کو استطاعتِ بدنی حاصل ہے ، یعنی وہ مکہ مکرمہ چل کر پہنچ سکتا ہے ، اس پر حج فرض ہے ، زاد و راحلہ شرط نہیں ، مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً  میں امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ استطاعت سے استطاعتِ بدنی مراد لیتے ہیں ، اور دیگر ائمہ کے نزدیک استطاعتِ بدنی بھی ضروری ہے ، اور ساتھ میں سواری بھی موجود ہونی ضروری ہے ، جو مکہ مکرمہ تک لےکر جائے ، اور اتنا خرچہ بھی پاس ہو ، جو پیچھے فیملی کو دے کر جائے ، اور واپس آنے تک وہ چلتا رہے ، تب اس پر حج فرض ہوگا ، اور ان کی دلیل ایک روایت ہے ، جس کو امام مالک ضعیف قرار دیتے ، حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا : مَا یُوْجِبُ الحَجَّ ؟ حج کو کیا چیزی واجب کرتی ہے ؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : الزَّادُ وَ الرَّاحِلَةُ ، زاد و راحلہ واجب کرتے ہیں ۔

       
امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ حدیث ، ضعیف ہونے کی وجہ سے نہیں لی ، مگر دوسرے ائمہ کہتے ہیں : ہمیں حدیث شریف سے کوئی حکم ثابت نہیں کرنا ، صرف قرآن کریم کی آیت  ‌‌"‌‌مَن اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً ‌‌"‌‌ کی تفسیر کرنی ہے ، اور آیت کی تفسیر میں ضعیف حدیث کو لینے میں کوئی حرج نہیں ، باقی ائمہ اس حدیث شریف سے کوئی حکم ثابت نہیں کرتے ، وہ اس حدیث شریف کو سامنے رکھ کر صرف اتنا کہتے ہیں کہ مَن اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً میں صرف استطاعتِ بدنی مراد نہیں ، استطاعتِ مالی بھی مراد ہے ، خیر امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حج ، صرف بدنی عبادت ہے ، دیگر ائمہ کے نزدیک بدن اور مال دونوں سے مرکب ہے ۔

       
میں عرض یہ کر رہا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ نے بدنی عبادتیں دو رکھی ہیں ، اور مالی عبادت ایک رکھی ہے ، ایسا کیوں ؟ بدنی عبادتیں دو اس وجہ سے ہیں ، کہ روح میں دو صفتیں ہیں ، دونوں صفتوں کےلئے دو عبادتیں چاہئیں ، ایک سے ملکیت بڑھے گی ، اور دوسری سے بہیمیت پر کنٹرول ہوگا ، اور چونکی مال میں ایسی دو صفتیں نہیں ، اس لئے عبادتِ مالی ایک ہی رکھی ۔

زکوٰۃ عام مال میں ہے ، خاص مال میں نہیں :

       
مالی عبادت میں شریعت نے کئی باتوں کا لحاظ کیا ہے
:

       
ایک : یہ کہ جو اموال عام طور پر جمہور کے پاس ہوتے ہیں ، انہی میں زکوٰۃ رکھی ہے ، مخصوص آدمیوں کے پاس جو مال ہوتا ہے ، اس میں زکوٰۃ نہیں رکھی ، بکریاں ، گائے ، بھینس ، اونٹ جہاں لوگ پالتے ہیں ، سبھی پالتے ہیں ، جب گولڈ اور سلور کرنسی تھی ، تو ہر آدمی کے پاس تھی ، اور ہیرے جواہرات بنیوں کے پاس ہی ہوتے ہیں ، ہم ستر سال کے ہوگئے ، ہم نے ہیرے کی شکل بھی نہیں دیکھی ، ہیرے بڑے مہنگے ہوتے ہیں ، اس لئے ان میں زکوٰۃ نہیں ، زکوٰۃ جو شریعت نے فرض کی ہے ، اس میں اس کا لحاظ کیا ہے ، کہ وہ اموال جو عام طور پر لوگوں کے پاس پائے جاتے ہوں ، ان میں زکوٰۃ فرض کی ، مخصوص لوگوں کے پاس جو اموال ہوتے ہیں ، ان میں زکوٰۃ نہیں ۔

زکوٰۃ میں غناء کا لحاظ ہے :

       
دوم : زکوٰۃ فرض کرتے وقت غناء ( بےنیازی ) کا لحاظ رکھا گیا ہے ، جس مال کی آدمی کو ضرورت نہیں ، اسی میں زکوٰۃ رکھی ہے ، اور جو مال ضرورت میں مشغول ہے ، اس میں زکوٰۃ نہیں رکھی ، شریعت نے یہ طے کیا ہے ، کہ جو قابلِ زکوٰۃ اموال ہیں ، ان میں ایک معتدبہ مقدار ( نصاب ) ہونی چاھئے ، جیب میں صرف دس ڈالر ہونے سے بےنیازی نہیں پائی جاتی ، پھر وہ نصاب سال بھر اس کے پاس رہے ، معلوم ہوا کہ اس کی ضرورت سے زائد ہے ، اور ضرورت سے زائد ہونے کا نام غناء  ( بےنیازی ) ہے ، یہی مالداری ہے ، صبح کو لاکھ دو لاکھ آئے ، شام کو خرچ ہوگئے ، تو اس کا نام بےنیازی نہیں ہے

زکوٰۃ اصل مال میں نہیں ، بڑھے ہوئے مال میں ہے :

       
سوم : شریعت نے مال میں جو بڑھوتری ہوتی ہے ، اس میں زکوٰۃ واجب کی ہے ، اصل مال میں زکوٰۃ واجب نہیں کی ، ایک آدمی کے پاس چالیس بکریاں ہیں ، وہ ایک سال تک اس کی ملکیت میں رہیں ، تو سال بھر میں پندرہ بیس بچے پیدا ہوجائیں گے ، اب شریعت کہتی ہے ، کہ جب سال پورا ہوجائے ، تو ایک بکری زکوٰۃ میں دو ، بیس بکریاں بڑھ گئیں ، تو اگر شریعت نے ایک بکری لے لی ، تو کیا پریشانی کھڑی ہوئی ؟ چالیس بکریاں آتے ہی فوراﹰ ایک بکری نہیں لی ، سال پورا ہونے پر لی ہے ، یہی حال گایوں بھینسوں کا ہے ، غرض شریعت نے زکوٰۃ ، زائد اموال میں رکھی ہے ، اصل مال میں زکوٰۃ نہیں رکھی ۔

       
پھر اس میں یہ بھی شرط ہے کہ جانور سائمہ ہوں ، یعنی سال کا اکثر حصہ جنگل کی مباح گھاس چرتے ہوں ، تو زکوٰۃ ہے ، اور اگر کوئی اپنے کھیت میں گھاس اگاکر جانوروں کو کھلائے ، یا چارہ خرید کر جانوروں کو کھلائے ( یعنی جانور علوفہ ہوں ) تو زکوٰۃ نہیں ، اسی طرح عوامل یعنی وہ جانور جو سواری میں ، ہل جوتنے میں ، گاڑی وغیرہ کھینچنے میں استعمال ہوتے ہیں ، ان میں بھی زکوٰۃ نہیں رکھی ، یہ عوامل اگر مادہ ہوں ، تب بھی ان میں زکوٰۃ نہیں ، اسی طرح اگر سب جانور نابالغ ( بچے ) ہوں ، تو بھی ان میں زکوٰۃ نہیں ، کیونکہ وہ بچے نہیں دیں گے ، اس لئے بڑھوتری نہیں ہوسکتی ۔

       
سوال : جانور تو بچے دیتے ہیں ، لیکن گولڈ اور کرنسی کہاں بچے دیتے ہیں ؟ مالِ تجارت بےشک بڑھتا ہے ، مگر مذکورہ تین چیزیں نہیں بڑھتیں ، پھر ان میں زکوٰۃ کیوں ؟

       
جواب : شریعت نے ان میں نمو تقدیری مانا ہے ، یعنی بڑھوتری فرض کرلی ہے ، کیونکہ سونا ، چاندی اور کرنسی کاروبار میں لگانے کی چیزیں ہیں ، اب اگر کوئی بینگ یا تجوری میں رکھے رہے ، تو یہ اس کی کوتاہی ہے ، گولڈ ، سلور اور کرنسی ، کاروبار میں لگاکر بڑھانے کےلئے ہیں ۔

جو اموال گردش میں رہتے ہیں ، ان میں زکوٰۃ کم رکھی ہے :

       
چہارم : پر شریعت نے ایک لحاظ یہ بھی کیا ہے ، کہ جو اموال گردش میں رہتے ہیں ، ان میں زکوٰۃ کم رکھی ہے ، اور جو گردش میں نہیں رہتے ، ان میں نسبتاﹰ زکوٰۃ زیادہ رکھی ہے ، کھیت میں دس من پیداوار ہو ، تو ایک من عشر واجب ہوگا ، یعنی دس فیصد ، اور گولڈ ، سلور ، کرنسی اور اموالِ تجارت میں چالیس فیصد زکوٰۃ ہے ، کیونکہ زمین میں سال میں ایک دو مرتبہ پیداوار ہوتی ہے ، اس لئے اس میں زکوٰۃ زیادہ رکھی ، اور گولڈ وغیرہ اموال گردش میں رہتے ہیں ، اس لئے ان میں زکوٰۃ کم رکھی ، تاکہ لوگوں پر ، زکوٰۃ ادا کرنے میں زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔

سونا ، چاندی اور اموالِ تجارت کا نصاب :

       
اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو ، تو اس کا نصاب چھ سو بارہ گرام چاندی ہے ، یہ دو سو درہم کا وزن ہے ، یہی ساڑھے باون تولہ ہے ، اور اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو ، تو ایک رائے یہ ہے کہ سونا ، چاندی پر محمول ہے ، یعنی چھ سو بارہ گرام چاندی کی قیمت کے بقدر سونا ہو ، تو وہ صاحبِ نصاب ہے ، پس سونے کا کوئی مستقل نصاب نہیں ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہی رائے ہے ، اور متقدمین میں سے ، کئی حضرات کی یہی رائے تھی ، اور حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں دس ایک کا حساب تھا ، ایک دینار کے دس درہم آتے تھے ، حدیثوں میں جو بیس دینار آئے ہیں ، وہ دو سو درہم کی قیمت تھی ، بعد میں یہ حساب بدل گیا ، چاندی بہت نیچے آگئی ، اور سونا بہت اوپر چلاگیا ، پس آج بھی چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا ۔

       
لیکن چاروں مذہب میں فتویٰ اس پر ہے ، کہ چاندی کا نصاب الگ ہے ، اور سونے کا نصاب الگ ہے ، ساڑھے سات تولے ( بیس مثقال ) یعنی ستاسی گرام ، پوئنٹ پندرہ ( 87.15 ) سونے کا نصاب ہے ، اور اس سلسلہ میں تین حدیثیں ہیں ، اور تینوں میں ضعف ہے ، مگر تینوں مل کر قوی ہوجاتی ہیں ۔

مخلوط اموال کا نصاب :

       
اور اگر تھوڑی چاندی اور تھوڑا سونا ہو ، یا ساتھ میں کرنسی ہو ، تو چاندی کے نصاب کا اعتبار ہے ، چاندی کی قیمت بازار میں پوچھ کر کاغذ پر لکھو ، سونے کی قیمت پوچھ کر اس کو بھی کاغذ پر لکھو ، اور کرنسی کو بھی ملاؤ ، پھر اگر ٹوٹل : چاندی کے نصاب ( چھ سو بارہ گرام ) کی قیمت کے بقدر ہوجائے ، تو زکوٰۃ واجب ہے ، غرض ایسی صورت میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا ، سونے کے نصاب کا اعتبار نہیں ہوگا ، کیونکہ وہی انفع للفقراء ہے ، فتویٰ چاروں ائمہ کے یہاں اسی پر ہے ۔

قیمتی کرنسی میں سونے کا اعتبار ہے ، یا چاندی کا ؟

       
جو ہیوی ( بھاری ) کرنسیاں ہیں ، میں ان میں سونے کے نصاب کا اعتبار کرتا ہوں ، پس جب بھاری کرنسی میں گولڈ کے نصاب کا اعتبار کرلیا ، تو اگر ٹوٹل ستاسی گرام ، پوئنٹ پندرہ کے بقدر ہوجائے ، اور اتنی مالیت پورے سال کسی کے پاس رہے ، تو زکوٰۃ واجب ہوگی ، میں چاندی کے نصاب کا اعتبار بھاری کرنسی میں نہیں کرتا ، کیونکہ وہ بےقدر مالیت ہوتی ہے ، اور بھاری کرنسیاں : پاؤنڈ ، ڈالر اور دینار ہیں ، لیکن فتویٰ چاروں ائمہ کے یہاں ، اس پر ہے کہ چاندی کے نصاب کا اعتبار ہے ۔

اموالِ زکوٰۃ کے نصابوں کی پانچ اجناس ، اور بڑا نصاب :

       
اموالِ زکوٰۃ کی پانچ اجناس ہیں ، اور وہ الگ الگ ہیں ، ایک کو دوسرے کے ساتھ نہیں ملائیں گے ، اور ہر جنس کا ایک نصاب طے کیا گیا ہے ، اور یہ بڑا نصاب کہلاتا ہے ، اس کے علاوہ ایک چھوٹا نصاب بھی ہے ، چھوٹے نصاب سے پانچ احکام متعلق ہیں ، اور بڑے نصاب سے چھ ۔

       
پہلی جنس : اگر کسی کے پاس اونٹ ہوں ، اور وہ جنگل کی مباح گھاس سال کا بیشتر حصہ کھاتے ہوں ( یعنی سائمہ ہوں ) تو ان کا نصاب پانچ اونٹ ہیں ، اس سے کم میں زکوٰۃ نہیں ۔

       
دوسری جنس : گائیں اور بھینسیں ایک ہی خاندان ہیں ، ان کا نصاب تیس ہے ، بشرطیکہ وہ سائمہ ہوں ، علوفہ نہ ہوں ، تیس سے کم میں زکوٰۃ نہیں ۔

       
تیسری جنس : بھیڑ بکریاں بھی ایک خاندان ہیں ، ان کا نصاب چالیس ہے ، بشرطیکہ وہ سائمہ ہوں ، چالیس سے کم میں زکوٰۃ نہیں ۔

       
چوتھی جنس : زمین کی پیداوار ہے ، اگر سینچائی پر خرچہ کیا گیا ہے ، یا محنت کی گئی ہے ، تو پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہے ، اور اگر سینچائی پر خرچہ نہیں کیا گیا ہے ، بارش سے پیداوار ہوئی ہے ، تو پیدوار کا دسواں حصہ واجب ہے ، اس کے علاوہ دوسرے خرچے : ہل جوتنا ، بیج ڈالنا ، کھاد ڈالنا وغیرہ وغیرہ نہیں دیکھے جائیں گے ، اس زکوٰۃ کو عشر کہتے ہیں ، اور یہ حکومت وصول کرتی ہے ، اور غریبوں پر خرچ کرتی ہے ۔

اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں کی زمینوں میں عشر کا مسئلہ :

       
ملک تین قسم کے ہیں ، ایک : اسلامی ملک ، دوسرا : وہ ملک جو کبھی اسلامی تھا ، پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا جیسے انڈیا ، تیسرا : وہ ملک جو کبھی بھی اسلامی ملک نہیں بنا ، جیسے آپ کا یہ ملک کناڈا ، ان سب کی زمینوں کے احکام الگ الگ ہیں ۔

       
وہ ملک جو اسلامی ہیں ، ان کی زمینیں دو قسم کی ہیں ، ایک : وہ ہیں جو قدرتی دریاؤں سے سینچی جاتی ہیں ، اورشروع سے زمین کے مالک مسلمان ہیں ، تو اس میں عشر ( دسواں حصہ ) واجب ہے ، اور اگر وہ زمینیں کنوؤں سے ، یا ٹیوب ویل سے سینچی جاتی ہیں ، تو اس میں بیسواں حصہ واجب ہے ، دوسری قسم : وہ زمینیں ہیں ، جو اگرچہ قدرتی دریاؤں سے سینچی گئی ہوں ، مگر وہ زمینیں پہلے غیر مسلموں کے پاس رہی ہیں ، ان کے پاس سے مسلمانوں کے پاس آئی ہیں ، تو ان میں عشر نہیں ہے ، بلکہ بیگہ ( خراج ) لیا جاتا ہے ، خراج حکومت لیتی ہے ، اور اس کا بڑا حصہ فوج پر ، اور ملک کی ترقی میں خرچ ہوتا ہے ۔

       
اور وہ ملک جو کبھی مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے ہیں ، پھر وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے ، جیسے انڈیا تو ایسے ملکوں کے بارے میں فتویٰ یہ ہے ، کہ چونکہ وہاں گورنمنٹ زمینوں سے بیگہ لیتی ہے ، اس لئے ان زمینوں میں عشر واجب نہیں ، کیونکہ دو مؤنتیں ( خرچ ) جمع نہیں ہوتیں ، البتہ مستحب یہ ہے ، کہ ان کا بھی عشر نکالا جائے ۔

       
تیسرے وہ ملک ہیں ، جو کبھی بھی اسلامی ملک نہیں بنے ، جیسے کناڈا ، اس میں بہ درجۂ اولیٰ عشر واجب نہیں ، جب انڈیا جیسے ملک میں عشر واجب نہیں ، تو اس تیسری قسم کے ملکوں میں عشر کیسے واجب ہوگا ؟ یہاں بھی صرف استحباب ہوگا ، بہرحال یہ جو زمین کا عشر لیا جاتا ہے ، وہ زکوٰۃ کے حکم میں ہے ، اور یہ ایک مستقل جنس ہے ۔

       
پانچویں جنس : میں چار چیزیں شامل ہیں ، اور چاروں مل کر ایک جنس ہیں ، سونا ، چاندی ، کرنسی اور اموالِ تجارت ، اگر صرف سونا ہے ، تو اس کا نصاب گذرچکا ، اگر صرف چاندی ہے ، تو اس کا نصاب بھی گذرچکا ، اگر صرف کرنسی یا اموالِ تجارت ہیں ، تو چاندی کے نصاب سے موازنہ کریں گے ، یا سونے کے نصاب سے ؟ مفتیوں کا فتویٰ یہ ہے ، کہ چاندی کے نصاب سے موازنہ کریں گے ، اور میں کہتا ہوں : جو بھاری کرنسیاں ہیں ، ان کو سونے کے نصاب سے موازنہ کریں گے ۔

       
اور اگر تھوڑا سونا ، تھوڑی چاندی ، تھوڑی کرنسی اور تھوڑا مالِ تجارت ہے ، تو سب کی قیمت لگائیں گے ، اگر چاندی یا سونے کے نصاب کے بقدر ہوجائے ، تو حولانِ حول پر زکوٰۃ واجب ہوگی ، یہ پانچ اجناس ہیں ، ان میں زمین کی پیداوار کو الگ کردیں ، باقی چار اجناس بڑا نصاب ہیں ، یہ قدرتِ مُیَسِّرَہْ والا نصاب ہے ۔

چھوٹا نصاب اور اس سے متعلق احکام :

       
اور ایک چھوٹا نصاب ہے ، یعنی قدرتِ ممکنہ والا نصاب ، اور وہ یہ ہے کہ انسان کی اپنی حاجاتِ اصلیہ میں جو چیزیں مشغول ہیں ، ان کو الگ کرلیا جائے ، اور جو چیزیں ضرورت سے زائد ہیں ، ان کی قیمت لگائی جائے ، اور وہ نصاب میں گنی جائیں ، جیسے اتنی زمین جس سے اس کی فیملی کا گذارہ چل سکے ، اس کی حاجت میں مشغول ہے ، اس سے زائد زمین قیمت لگاکر نصاب میں آئے گی ، اگر مکانات ہیں ، اور ان کے کرایوں سے اس کا گذارہ ہوتا ہے ، تو اتنے مکان جس سے اس کا ، اور اس کی فیملی کا گذارہ ہوسکے ، الگ کرلئے جائیں گے ، اس سے زائد جو مکان ہیں ، ان کی قیمت لگ کر نصاب میں آئے گی ، گھر میں برتن بھرے ہوئے ہیں ، مردوں یا عورتوں کے پاس بےحساب کپڑے ہیں ، پس جو برتن یا کپڑے ضرورت کے ہیں ، ان کو الگ کرلیا جائے گا ، باقی زائد کپڑے اور برتن قیمت لگاکر نصاب میں آئیں گے ، پھر چاندی کے نصاب کے بقدر ، یا سونے کے نصاب کے بقدر مالیت ہوجائے ، تو وہ چھوٹے نصاب کا مالک ہوگیا ہے ۔

       
چھوٹے نصاب سے پانچ احکام متعلق ہیں : 
❶ اس پر قربانی واجب ہے
❷اس پر صدقۂ فطر واجب ہے 
❸ اس کےلئے زکوٰۃ لینا حرام ہے ، وہ غنی ہے ، اس کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی 
❹ اس پر حج فرض ہے ، اگر رقم حج کےلئے کافی ہو 
❺ اس پر ددھیال اور ننھیال کے ایسے مرد یا عورت کا ، جو کمانے کے قابل نہیں ہیں ، اور غریب ہیں ، ان کا نفقہ واجب ہے ۔

       
اور جس کے پاس بڑا نصاب ہے ، یعنی پانچ اونٹ ، یا تیس گائیں بھینسیں ، یا چالیس بکریاں ، یا سونا چاندی کرنسی یا اموالِ تجارت کا نصاب ہے: اس پر چھ چیزیں واجب ہیں ، پانچ وہی ، اور چھٹی چیز : اس پر زکوٰۃ نکالنا فرض ہے ۔

تجارت کا مال کونسا ہے ؟

       
وہ چیز جسے خریدا گیا ہے بیچنے کی نیت سے:  وہ تجارت کا مال ہے ، اور اگر خریدتے وقت بیچنے کی نیت نہیں تھی ، تو وہ تجارت کا مال نہیں ، پھر وہ کیوں خریدی ہے ؟ خریدی تھی کرایہ پر دینے کےلئے ، اور اس سے پیسہ کمانے کےلئے ، تو یہ تجارت کی چیز نہیں ہے ، یا اس لئے خریدی تھی ، کہ بچے بڑے ہوں گے ، اور مکان کی ضرورت پڑےگی ، پس ان کے مکان اسی زمین میں بناویں گے ، اور اگر کوئی اچھی قیمت آئے گی ، تو فروخت بھی کردیں گے ، تو یہ بھی تجارت کی چیز نہیں ، یا ہمارے کھیت میں جو پیداوار ہوتی ہے ، اور وہ کھانے کی نہیں ہے ، جیسے کپاس ، سرسوں وغیرہ ، کسان لامحالہ اس کو بیچے گا ، یا کھانے کا اناج پیدا ہوتا ہے ، مگر تیس من ہم کھائیں گے ، اور پیداوار ہوئی ہے دو سو من ، پس باقی کسان بیچے گا ، مگر یہ بھی تجارت کا مال نہیں ، وہ جب تک رکھی رہے گی ، اس میں کوئی زکوٰۃ نہیں ، جب اسے بیچ دیں گے ، اور پیسہ بیلنس میں آجائےگا ، تو بیلنس پر جب سال پورا ہوگا ، تو اس نئے پیسے پر بھی بیلنس میں شامل ہوکر زکوٰۃ واجب ہوگی ، البتہ اکر کسی نے کپاس ، سرسوں اس لئے خریدا ہے ، کہ جب ریٹ بڑھیں گے ، بیچ دیں گے ، تو یہ تجارت کا مال ہے ، اسی طرح اگر مکان خریدا ہے ، کرایہ پر اٹھانے کےلئے ، بیچنے کےلئے نہیں خریدا ، ہاں اگر کبھی اچھے پیسے ملے ، تو بیچ بھی دیں گے ، تو اس مکان پر زکوٰۃ نہیں ، بلکہ اس کا کرایہ بیلنس میں جائےگا ، اور سال پورا ہونے پر کرایہ پر بیلنس میں شامل ہوکر زکوٰۃ آئے گی ۔

زکوٰۃ میں کونسا قرض منہا ، اور کونسا شامل ہوتا ہے ؟

       
جاننا چاھئے کہ زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت بیلنس میں سے سب سے پہلے آپ قرضہ لیس ( منہا ) کریں گے ، پھر جو باقی بچے ، اس پر زکوٰۃ آئے گی ، اور قرض تین قسم کے ہیں :

       
❶ قوی قرض : جو آپ کسی بھی وقت وصول کرسکتے ہیں ، یا آپ سے کسی بھی وقت مطالبہ کیا جاسکتا ہے ، یہ قرضِ حسنہ ہے ، یہ قرضہ اگر آپ کو لینا ہے ، تو بیلنس میں ایڈ ( شامل ) ہوگا ، اور اگر دینا ہے تو لیس ( منہا ) ہوگا ۔

       
❷ ضعیف قرض : جیسے بیوی کے دو مہر ہوتے ہیں ، ایک کیش ( معجّل ) دوسرا ادھار ( مؤجل ) کیش مہر قوی قرض ہے ، وہ بہرحال دینا ہے ، لیکن جو ادھار مہر ہے ، وہ موت یا طلاق تک نہیں مانگا جاتا ، پس وہ کمزور قرض ہے ، لٰہذا عورت مہر کو اپنے بیلنس میں ایڈ نہیں کرے گی ، اور شوہر اپنے بیلنس سے لیس نہیں کرے گا ۔

       
اور آج اس کی بےشمار مثالیں پائی جاتی ہیں ، لوگ قسطوں پر گھر خریدتے ہیں ، مشین خریدتے ہیں ، پروپرٹی وغیرہ خریدتے ہیں ، پس جو قسط پک گئی ، وہ قوی قرض ہے ، اور جو قسطیں ابھی کچی ہیں ، وہ سب ضعیف قرضے ہیں ، وہ نہ لیس ہونگے ، نہ ایڈ ، کیونکہ وہ قسطیں ابھی مانگنے کا حق نہیں ، اور جو قسط پک گئی ، وہ کسی بھی وقت مانگی جاسکتی ہے ، وہ قوی قرضہ ہے ۔

مصنوعات اور خام مال کا حکم :

       
اس کے علاوہ ایک نئی شکل پروڈکشن کی نکلی ہے ، بڑے بڑے کارخانے ہوتے ہیں ، ان میں لاکھوں کا خام مال ہوتا ہے ، وہ خام مال بیچنے کےلئے نہیں ہوتا ، بلکہ مصنوعات اس سے تیار ہوتی ہیں ، پھر وہ مصنوعات بیچی جاتی ہے ، یا جیسے مرغی فارم میں مرغیاں انڈے دینے کےلئے ہوتی ہے ، بیچنے کےلئے نہیں ہوتیں ، یا بیچنے کےلئے ہوتی ہیں ، مگر جب ایک کلو کی ہوجائیں گی ، تب بکیں گی ، اس سے پہلے نہیں بکیں گی ، یہ سب پروڈکشن ہے ۔

       
اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ یہ ہے ، کہ خام مال پر زکوٰۃ واجب ہے ، وہ فروختگی کا مال ہے ، لیکن میں خام مال کو تجارت کے مال میں نہیں شمار کرتا ، کیونکہ جیسے مشینوں میں ، زکوٰۃ واجب نہیں ، کیونکہ وہ ذرائع اور آلات ہیں ، ویسے ہی یہ خام مال بھی ذریعہ ہے ، پھر جب اس کی مصنوعات تیار ہوگئیں ، تو اب بھی ان پر زکوٰۃ نہیں ، جیسے آپ کے کھیت میں گیہوں پیدا ہوئے ، تو جب تک وہ بک نہ جائیں ، ان پر زکوٰۃ نہیں ، ایسے ہی کارخانے کا معاملہ ہے ، جو چیز تیار ہوئی ہے ، اس پر زکوٰۃ نہیں ، ہاں جب مال بک جائے ، تو اس کی قیمت بیلنس میں ایڈ ہوگی ، اور بیلنس پر جب سال پورا ہوگا ، تو اس پر بھی زکوٰۃ آئے گی ، لیکن دار الافتاء کے نزدیک یہ خام مال ، تجارتی مال ہے ، اس پر زکوٰۃ آئے گی ، لٰہذا اگر کوئی دار الافتاء کے فتوے پر عمل کرے ، تو اس میں احتیاط ہے ۔

       
❸ متوسط قرض : کسی نے قرض لے رکھا ہے ، وہ انکار بھی نہیں کرتا ، اور دیتا بھی نہیں ، پس اگر ایسا قرض دینا ہے ، تو بیلنس میں سے لیس نہیں ہوگا ، دینا ہے تو دیدو ، اس کو روک کیوں رکھا ہے ، لینا ہے تو اس میں ہمارا اختیار نہیں ہے ، لٰہذا وہ فی الحال ایڈ نہیں ہوگا ، لیکن جب وصول ہوگا ، گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینی پڑے گی ۔

تجارتی مال میں اعتبار مارکیٹ ویلیو کا ہے ، یا خرید قیمت کا ، یا نفع کا ؟

       
سوال : تجارتی اموال میں کونسی قیمت کا اعتبار ہے ، خرید قیمت کا ، یا جو ہم بیچیں گے ، اس قیمت کا ، یا مارکیٹ ویلیو کا ؟

       
جواب : مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہے ، اور خریدی ہوئی قیمت ، اور مارکیٹ ویلیو عام طور پر ایک ہوتے ہیں ، اگر مدت لمبی نہیں ہوئی ، اور اگر مدت لمبی ہوگئی ، جیسے ایک پلاٹ خریدا ہے ، اور تین سال سے پڑا ہے ، تو اب مارکیٹ ویلیو بدلے گی ، گھٹ بھی سکتی ہے ، اور بڑھ بھی سکتی ہے ، لیکن اگر مال آج آیا ، اور مہینہ میں ہی بک گیا ، تو اس کی خرید قیمت ، اور مارکیٹ ویلی عام طور پر ایک ہوتی ہے ، اور جو نفع کے ساتھ بیچنا ہے ، جیسے ایک روپے کی چیز ڈیڑھ روپئے میں بکے گی ، تو اس نفع ( پچاس پیسے ) کا اعتبار زکوٰۃ کے باب میں نہیں ہے ، وہ نفع ہے ، جب ملے گا ، ملے گا ، اس کا ملنا کوئی ضروری نہیں ، ہوسکتا ہے اس سے پہلے چوری ہوجائے ، یا قیمت گھٹ جائے ، لٰہذا اگر مارکیٹ ویلیو ، اور خرید کا زمانہ قریب ہے ، تو وہاں تو دونوں ایک ہی ہوتے ہیں ، اور اگر زمانہ بعید ہوگیا ہے ، تو مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا ، خرید کا اعتبار نہیں ۔ یہ چند ضروری مسائل ہیں ، جو میں نے آپ حضرات کے سامنے عرض کئے ۔

وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن
مکمل تحریر >>

Saturday, 2 April 2016

عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں

!!! عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں!!!

مقرر : حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم ،شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

ناقل : عادل سعیدی پالن پوری


       
خطبۂ مسنونہ کے بعد : {إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۞ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ } (آلِ عمران آیت نمبر ٥٩ ۔ ٦٠  )

       
بزرگو اور بھائیو! آج جو پارہ پڑھا گیا ہے ، اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ، بہت طویل مضامین آئے ہیں ، ان تمام مضامین کو مختصر وقت میں بیان کرنا مشکل ہے ، اس لئے ان میں سے ایک حصہ آپ حضرات کے گوش گذار کرتا ہوں ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا ایک مقصد ، نبیﷺ کی خبر دینا ہے :

       
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ سے بالکل متصل زمانہ میں آئے ہیں ، بیچ میں کسی نبی کا فاصلہ نہیں ، اور ان سے پہلے حضرت یحیٰ علیہ السلام تشریف لائے ہیں ، یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے ، اور دونوں تقریباﹰ ہم عمر تھے ، اور حضرت یحیٰ علیہ السلام چھ سات مہینے بڑے تھے ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام چھوٹے تھے ، اور حضرت یحیٰ علیہ السلام کی بعثت کا ایک مقصد ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی اطلاع دینا تھا ، وہ اعلان کرتے تھے کہ کلمة اللہ آرہے ہیں ، روح اللہ آرہے ہیں ، ان پر ایمان لانے کےلئے تیار ہوجاؤ ۔

       
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا ایک اہم مقصد ، فخرِ دو عالم ﷺ کا زمانہ قریب آنے کی اطلاع دینا تھا ، لوگوں کو بتانا تھا ، کہ محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لانے والے ہیں ، ان پر ایمان لانے کےلئے تیار ہوجاؤ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : { وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ  } ( سورة الصف آیت نمبر ٦ ) : میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنارہا ہوں ، جو میرے بعد آئیں گے ، میرے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد آئیں گے ، جن کا نامِ پاک ‌‌"‌‌احمد‌‌"‌‌ ہوگا ۔

احمد وصفی نام ہے ، اور محمد ذاتی :

       
أحْمَدُ : أکبر کے وزن پر ہے ، اور اسم تفضیل ہے ، اور اس کے معنیٰ ہیں : سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ، اور یہ آنحضورﷺ کا وصفی نام ہے ، جو نام کسی خوبی کو ظاہر کرتا ہے ، اس کو وصفی نام کہتے ہیں ، اور ذاتی نام کو عَلم کہتے ہیں ، جیسے ایک شخص کا نام عبدالرحیم ہے ، تو یہ علم ( ذاتی نام ) ہے ، اور وہ مفتی ، حافظ ، قاری بھی ہے ، تو یہ مفتی ، حافظ اور قاری وصفی نام ہیں ، آنحضورﷺ کا علم ( خاص نام ) محمد ؑ  ہے ، اور وصفی نام بہت ہیں ، بعض حضرات نے ننانوے نام اکٹھا کئے ہیں ، اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں ، ان وصفی ناموں میں ایک نام احمد بھی ہے ، اس کے معنیٰ ہیں : اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ۔

انجیل میں نبی پاک ﷺ کا وصفی نام احمد ہے :

       
انجیل میں ، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی ہے ، اور جو سریانی زبان میں تھی ، اس میں آنحضورﷺ کا وصفی نام : پیروکلی طس  (Peroclitus )  آیا ہے ، جس کی عربی فارقلیط ہے ، یہ سریانی زبان کا لفظ ہے ، اس کا مفہوم وہی ہے ، جو احمد کا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ۔

ویدوں اور پرانوں میں آنحضورﷺ کی بشارت :

       
نبی پاک ﷺ کی بشارت ویدوں میں بھی ہے ، اور پرانوں میں بھی ، ویدوں میں آپ ﷺ کا نام : نراشیش آیا ہے ، اور پرانوں میں کلکی اوتار ، اور یہ کتنی پرانی کتابیں ہیں ، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے ، بعض کہتے ہیں : حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹوں کو ، جو کتابیں دی گئی تھیں ، وہ یہ ہیں ، اللہ جانے حقیقت کیا ہے ؟ ان کی تاریخ مجہول ہے ، اور نراشیش جس کی وید میں بشارت دی گئی ہے ، اس کے معنیٰ ہیں : اللہ تعالیٰ کی بےحد پرسنا ( تعریف ) کرنے والا ، یعنی لفظِ احمد کے جو معنیٰ ہیں ، وہی اس لفظ کے بھی ہیں ، اور پرانوں میں کلکی اوتار ہے ، جس کے معنیٰ ہیں : خاتم النبین ( ﷺ  ) ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ختمِ نبوت کا نمونہ تھی :

       
غرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی پاک ﷺ کی بشارت لے کر آئے ہیں ، اور اللہ تعالٰی نے ان کی پیدائش میں دنیا والوں کو ایک معجزہ دکھایا ہے ، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سنتِ الٰہی یہ چلی آرہی تھی ، کہ مرد و زن کے ملنے سے انسان پیدا ہوتا تھا ، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا ، اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ کیوں دکھایا ؟ کسی اور نبی کو بغیر باپ کے کیوں پیدا نہیں کیا ؟ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی پاک ﷺ سے بالکل متصل زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں ، ان کے اور نبی پاک ﷺ کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں ، اور ان کی بعثت کا اہم ترین مقصد ، آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دینا تھا ، اور آج تک نبوت کے جو مختلف سلسلے جاری تھے ، اللہ تعالیٰ ان کو نبیِ آخر الزماں ﷺ کی ذات میں سمیٹنے والے تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو ، جو آنحضورﷺ سے متصل تھے ، بغیر باپ کے پیدا کرکے دنیا والوں کو دکھایا ، کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں سب کچھ ہے ، وہ نبوت کے تمام سلسلوں کو ایک ہستی میں سمیٹنے پر قادر ہیں ، جو ہستی بغیر باپ کے ، صرف ماں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرسکتی ہے ، وہ ایک ذات میں نبوت کو کیوں نہیں سمیٹ سکتی ؟ نبوت کے تمام سلسلوں کو ایک ذات میں سمیٹ دینا ، اتنا مستعبد نہیں ، جتنا بغیر باپ کے انسان کو پیدا کرنا مستعبد ہے ، غرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عجیب پیدائش آنحضورﷺ کے خاتم النبین ہونے کی دلیل ہے ، بغیر باپ کے ان کو اس لئے پیدا کیا ، کہ وہ خاتم النبین ﷺ کی بشارت لے کر آئے تھے ، اور خاتم النبین ﷺ کے زمانے سے متصل زمانہ میں آئے تھے ۔

عیسائیوں کو لفظِ روح اللہ اور کلمة اللہ سے دھوکہ ہوا :

       
حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں چند باتیں جمع ہوگئی تھیں ، ان میں سے چار باتیں ایسی تھیں ، جو دوسرے انبیائے کرام میں نہیں تھیں ، اس لئے ان کے ماننے والوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی ہوئی 
❶ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ‌‌"کلمة اللہ ‌‌"  اور ‌‌"‌‌روح اللہ " تھا ،
❷ انجیل میں ان کو ابن اللہ ( اللہ کا بیٹا ) کہا گیا ہے ،
❸ ان کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے ،
❹ ان کا آسمان پر اٹھایا جانا ہے ۔

چاروں باتوں کی تفصیل :

       
پہلی بات : آج ہی یہ آیت پڑھی گئی ہے ، کہ عیسیٰ علیہ السلام کلمة اللہ ( اللہ کا بول ) ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی طرف ڈالا ، اور وہ روح اللہ ہیں ، انجیل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ القاب آئے ہیں ، اور جب وہ ‌‌"‌‌اللہ کی روح" ہیں ، تو وہ یا تو خود خدا ہیں ، یا خدائی کا حصہ ہیں ، یعنی اس میں شریک ہیں ، چنانچہ اکثر عیسائیوں کا یہی عقیدہ ہے ، کہ وہ تہائی خدا ہیں ۔

ہندؤں کے عقیدۂ اوتار کی حقیقت :

       
ہندؤں کے یہاں اوتار کا عقیدہ ہے ، وہ کہتے ہیں : دنیا میں جب فساد بڑھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کسی عورت کے پیٹ سے انسانی بھیس میں پیدا ہوتے ہیں وہ انسان درحقیقت اللہ ہوتا ہے ، وہ لوگ اس کو اوتار کہتے ہیں ، وہ انسان بڑا ہوکر ، لوگوں کی اصلاح کرتا ہے ، پھر وہ انسان مرجاتا ہے ، اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی جگہ چلے جاتے ہیں ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ خدا ہیں ، نہ خدا کا کوئی حصہ :

       
اسی طرح عیسائی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں ، یا خدائی میں حصہ دار مانتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس نظریہ کو رد کیا ہے : {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ } ( المائدہ آیت نمبر ١٧ ) بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں ، جو یہ کہتے ہیں ، کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی ہیں ، آپ کہئے : اگر ایسا ہے تو بتلاؤ! اللہ تعالیٰ حضرت مسیح بن مریم کو ، اور ان کی والدہ کو ، اور جتنے زمین میں ہیں ، ان سب کو ہلاک کرنا چاہیں ، تو کون ایسا ہے ، جو اللہ تعالیٰ سے ان کو بچائے ؟ اور اللہ تعالٰی ہی کی آسمانوں پر ، زمین پر ، اور جتنی چیزیں ان میں ہیں ، ان پر حکومت ہے ، وہ جو چاہیں پیدا کرسکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں ۔

       
اس آیت میں صاف فرمادیا ہے ، کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں ، وہ کافر ہیں ، اور یہ بعض عیسائیوں کا عقیدہ تھا ، اور ہوسکتا ہے وہ آج بھی موجود ہوں ، اس لئے کہ عیسائیوں میں اتنے فرقے ہیں ، کہ ہم کہاں تک ان کے احوال جانیں گے ؟ لیکن عیسائیوں کی اکثریت اس کی قائل نہیں ، اکثر عیسائی تین کے مجموعہ کو خدا کہتے ہیں ، وہ ایک خدا کے تین حصے کرتے ہیں ، اس نظریہ کی بھی قرآن کریم نے تردید کی ہے ، فرمایا : {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ } ( المائدہ آیت نمبر ٧٣ ) وہ لوگ بھی کافر ہیں ، جنہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ تین میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو تین میں سے ایک مانا ، انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کا انکار کردیا ۔

       
دونوں عقیدے کفر ہیں ، جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہیں ، انہوں نے تو اللہ تعالیٰ کو مانا ہی نہیں ، اور جنہوں نے کہا ، کہ اللہ تین میں سے ایک ہیں ، انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں مانا ، پھر فرمایا : { وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اِلٰہٌ وَاحِدَةٌ } جبکہ ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ کامل و مکمل ہیں ، ان کا کوئی حصہ دار نہیں ، اور عیسائیوں میں جو یہ عقیدے پیدا ہوئے ہیں ، وہ لفظ کلمة اللہ ، اور روح اللہ سے پیدا ہوئے ہیں ، یہیں سے ان کو دھوکہ ہوا ہے ۔

روح اللہ کی حقیقت :

       
آپ لوگ چونکہ عربی نہیں جانتے ، اس لئے ذرا تفصیل سے سمجھاؤنگا ، روح اللہ میں روح کی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت ہے ، اور عربی میں اضافت مختلف مقاصد سے کی جاتی ہے ، ان مقاصد میں سے ایک مقصد ‌‌"‌‌تشریف" ہے ، جیسے بیت اللہ میں اضافت تشریف کےلئے ہے ، اللہ کے گھر کا یہ مطلب نہیں ہے ، کہ اللہ تعالیٰ وہاں رہتے ہیں ، وہ مکانیت سے پاک ہیں ، بلکہ اس گھر کی عظمت ظاہر کرنے کےلئے یہ اضافت کی گئی ہے ، جیسے ہم مسجدوں کو ‌‌"‌‌اللہ کا گھر" کہتے ہیں ، اس سے ہم ان جگہوں کا بابرکت اور معزز ہونا ظاہر کرتے ہیں ، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے ، اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کا معزز و محترم ہونا ، بیان کرنا مقصود ہے ، اس کے یہ معنیٰ ہرگز نہیں ، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کا کل ، یا بعض عیسیٰ علیہ السلام کے جسم میں ڈالا ۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا :

       
جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ، تو تمام مخلوقات کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ، پس سب سجدہ ریز ہوگئے ، یہاں تک کہ ملائکہ بھی سجدہ ریز ہوگئے ، جو سب سے بڑی اور اشرف مخلوق تھے ، مگر ابلیس لعین نے سجدہ نہیں کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ } ( ص آیت نمبر ٧٥ ) جس مخلوق کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ، اس کے سامنے تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو غرور میں آگیا ، یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے ؟ ارشادِ پاک ‌‌"جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا‌‌" کا یہ مطلب نہیں ہے ، کہ اللہ تعالیٰ اوزار لے کر حضرت آدم علیہ السلام کو گھڑنے بیٹھے تھے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے ، کہ میں نے اپنی خاص قدرت سے بنایا ، معزز و محترم مخلوق بنایا ، پھر تو نے سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہاں بیدی میں اضافت تشریف کےلئے ہے ، اسی طرح روح اللہ میں بھی اضافت تشریف کےلئے ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا :

       
اسی طرح حدیث شریف میں ہے : اِن اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ ( مشکوٰۃ شریف حدیث نمبر ٤٦٢٨ ) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اپنی صورت پر پیدا کیا ، بعض لوگ علیٰ صورتہ کی ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف لوٹاتے ہیں ، کیونکہ اقرب وہی ہے ، یعنی آدم کو آدم کی صورت پر پیدا کیا ، یہ مہمل بات ہے ، ہر مخلوق اسی کی صورت پر پیدا کی گئی ہے ، بھینس بھینس کی صورت پر پیدا کی گئی ہے ، بیل بیل کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے ، پس اگر آدم آدم کی صورت پر پیدا کئے گئے ، تو یہ کونسی نئی بات ہوئی ؟ بلکہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ، اور اضافت ، تشریف کےلئے ہے ، یعنی نہایت شاندار صورت پر پیدا کیا ، اپنی صورت پر پیدا کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے ، کہ جیسی ہماری صورت ہے ، ویسی ہی اللہ تعالیٰ کی صورت ہے ، بلکہ انسان کی عظمت ، شرافت اور بزرگی ظاہر کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے اس کی صورت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ، اور عربی کا مشہور قاعدہ ہے ، کہ کبھی ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت : عظمت ، شرافت اور بزرگی ظاہر کرنے کےلئے کی جاتی ہے ، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت ہے ، وہ عظمت و بزرگی ظاہر کرنے کےلئے ہے ، اور بس ۔

کلمة اللہ کی حقیقت :

       
اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات انوکھے انداز پر پیدا کی ہے ، ارشاد فرمایا : {بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ } وہ موجد ہیں آسمانوں اور زمین کے ، اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتے ہیں ، تو بس اس کو کہتے ہیں ، کہ ہو جا ! پس وہ ہوجاتا ہے ۔

تفسیر :

       
اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات انوکھے انداز پر پیدا فرمائی ہے ، جب کبھی اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا فیصلہ فرماتے ہیں ، تو بس یہ کہتے ہیں : ہوجا ، پس وہ ہوجاتی ہے ، کسی مادّے کی ضرورت نہیں ہوتی ، اللہ کا حکم ہی سب کچھ ہوتا ہے ، پس ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے کلمۂ کن سے پیدا ہوئی ہے ، سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام بھی اسی طرح پیدا ہوئے ہیں ، اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ خصوصیت نہیں ہے ، ارشادِ خداوندی ہے : {إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ } ( آل عمران آیت نمبر ٥٩ ) عیسیٰ کی حالتِ عجیبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، آدم کی حالتِ عجیبہ کی طرح ہے ، ان کو مٹی سے بنایا ، پھر ان سے کہا : ہوجا ، پس وہ ہوگئے ، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود کا حکم دیا ، تو وہ موجود ہوگئے ، پس ساری ہی کائنات کلمة اللہ سے پیدا ہوئی ہے ، اور کَلِمَۃٌ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی مادّے کے ، محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم رضی اللہ عنہا کے بطن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود ہوگیا ، آدم علیہ السلام بھی اسی طرح کلمۂ کن سے پیدا ہوئے ہیں ، پس کلمة اللہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کچھ تخصیص نہیں ، مگر ان دو لفظوں سے عیسائیوں کو دھوکہ ہوا ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کا مطلب :

       
اور دوسری بات ، جس کی وجہ سے عیسائیوں کو غلط فہمی ہوئی ، وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل میں ابن اللہ کہا گیا ہے ، اور یہ لفظ اس وقت بھی بائبل میں موجود ہے ، اس لفظ سے ان کو دھوکہ ہوا ، انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا ، حالانکہ یہود و نصاریٰ خود کو بھی اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ، قرآن کریم میں ان کا قول ہے : { نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ } ( مائدہ آیت نمبر ١٨ ) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور چہیتے ہیں ، جب یہود و نصاریٰ خود کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ، اور بیٹا کہنے کی وجہ سے ، وہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی بیٹے نہیں بن گئے ، تو عیسیٰ حقیقی بیٹے کیسے ہوگئے ؟ در حقیقت یہ پیار کا لفظ ہے ، جیسے  چھوٹے بچے سے کہتے ہیں : بیٹا ! ذرا پانی لانا ، پس اس کو بیٹا کہنے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں ہوجاتا ، اور یہ استعارہ ہر زبان میں رائج ہے ، مگر عیسائیوں کو اس لفظ سے دھوکہ ہوا ۔

عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی دھوکہ کا سبب بنا :

       
تیسری چیز جس سے عیسائیوں کو دھوکہ ہوا ، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے ، انہوں نے سوچا : بغیر باپ کے بیٹا کیسے ہوسکتا ہے ؟ لامحالہ حضرت عیسیٰ کے باپ اللہ تعالیٰ ہیں ، اور وہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔

       
ایک لطیفہ : جب انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا ، تو انہوں نے سارے ملک کو عیسائی بنانے کا پلان بنایا ، اس کےلئے انہوں نے انگلینڈ سے پادریوں کی ٹیم بلائی ، اور ان کو سارے ہندوستان میں پھیلادیا ، پادری پولیس کے ساتھ شہر کی کسی بڑی مسجد میں ، کسی نماز کے وقت پہنچ جاتے تھے ، جب نماز ختم ہوتی ، تو پولیس لوگوں کو زبردستی بٹھاتی ، کہ پادری صاحب کا بیان سن کر جاؤ ، دہلی کی جامع مسجد کا واقعہ ہے ، ایک پادری پولیس کے ساتھ آیا ، نماز کے بعد پولیس نے سب لوگوں کو روک دیا ، اور پادری نے ڈرامائی انداز میں تقریر شروع کی ، مجمع میں سے دس پندرہ آدمیوں کو کھڑا کیا ، ہر ایک سے اس کا ، اور اس کے باپ کا نام پوچھا ، سب نے اپنا اور اپنے باپ کا نام بتایا ، تب پادری نے کہا : ارے مسلمانو! تمہاری عقل پر پتھر پڑگئے ہیں ، تم میں سے کوئی بھی بغیر باپ کا نہیں ، اور تم حضرت عیسیٰ کو اللہ کا رسول اور پیغمبر مانتے ہو ، پھر کہتے ہو : ان کا کوئی باپ نہیں تھا ، کیسی بھونڈی بات بکتے ہو ، جاؤ ! اگلی نماز میں اپنے مولویوں سے پوچھ کر اس کا جواب لانا ۔

       
مجمع میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا ، اس نے کہا : پادری صاحب ! آپ بتائیں : عیسیٰ کا باپ کون ہے ؟ پادری نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کے باپ ہیں ، اس شخص نے پوچھا : اللہ تعالیٰ کے کتنے بیٹے ہیں ؟ پادری نے جواب دیا : صرف عیسیٰ ، اس شخص نے پوچھا : اور کوئی بیٹا نہیں ؟ پادری نے کہا : نہیں ، پس اس شخص نے کہا : تیرے اللہ سے تو میں اچھا ، میرے دس لڑکے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں ، تو پھر ان کا ایک ہی بیٹا کیوں ؟ ان کے تو انگنت بیٹے ہونے چاہئیں ، جا اگلی نماز میں اس کا جواب لانا ، پس پادری کی سِٹی گم ہوگئی ، اور وہ اگلی نماز میں آیا ہی نہیں ۔

اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا ، خدائی کی دلیل ہے ، تو آدم علیہ السلام اس کے زیادہ مستحق ہیں :

       
خیر بات یہ چل رہی تھی ، کہ عیسائیوں کو لفظِ ابن اللہ سے بھی دھوکہ ہوا ہے ، انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا سمجھ لیا ، اور بیٹا باپ کی جائیداد میں حصہ دار ہوتا ہے ، اور اللہ کی جائداد ان کی ‌‌"خدائی‌‌" ہے ، اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدائی میں شریک ہوگئے ۔

       
قرآن کریم نے نہایت سادہ انداز میں اس بات کو سمجھایا ہے ، کہ بغیر باپ کے پیدا ہونے سے ، خدا ہونا ، یا خدائی میں حصہ دار ہونا لازم نہیں آتا ، حضرت آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے ہیں ، مگر تم ان کو خدا نہیں مانتے ، پس جب آدم علیہ السلام ماں باپ کے بغیر پیدا ہونے کے باوجود خدا نہیں ہیں ، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کہاں سے ہوگئے ؟ ارشادِ خداوندی ہے : {إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ } حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آدم علیہ السلام جیسا ہے ، ان کا معاملہ کیا ہے ؟ ان کا پتلا مٹی سے تیار کیا ، اور حکم دیا ، ہوجا ! تو وہ ہوگئے ، اور وہ مخلوق ہیں ، خدا نہیں ، { الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ } اور یہ تیرے پروردگار کی طرف سے بالکل سچی بات ہے ، اس میں ذرا شک نہیں ، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ، تجھے اس میں ذرا شک نہیں ہونا چاھئے ، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ، اور رسول ہیں ، اور بس ۔

ہر نوع کا پہلا جوڑا براہِ راست مٹی سے پیدا کیا گیا ہے :

       
یہاں یہ بات سمجھ لینی چاھئے کہ ہر نوع کا پہلا جوڑا بغیر کسی واسطہ کے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ، کوئی بھی نوع ہو ، گائے ہو ، بھینس ہو ، بکری ہو ، یا اونٹ ہو ، ہر نوع کے پہلے دو فرد ( نر و مادہ ) براہِ راست مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ، آدم و حواء بھی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ،

       
اس کی تفصیل یہ ہے کہ زمین پر تین قسم کی مخلوقات ہیں ، ایک : کیڑے مکوڑے ، ان کی پیدائش براہِ راست مٹی سے ہوتی ہے ، ان میں توالد و تناسل نہیں ہوتا ، تمام حیوانات مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ، اسی طرح کیڑے مکوڑے آج بھی مٹی سے پیدا ہوتے ہیں ، پھر جب وہ مرجاتے ہیں ، تو دوسرے پیدا ہوجاتے ہیں ، آج کچھ نہیں ہوتا ، کل بارش ہوگئی ، اور پوری زمین کیڑوں سے بھر گئی ، پھر ایک دن آتا ہے ، کہ سب مرجاتے ہیں ، غرض مخلوق کی ایک قسم تو یہ ہے ، کہ جو سیدھے مٹی سے پیدا ہوتے ہیں ، زمین میں اللہ تعالیٰ نے بےپناہ تخلیق کی صلاحیت رکھی ہے ، ہمارا جسم بھی چونکہ مٹی سے بنا ہے ، اس لئے اس میں بھی یہ صلاحیت ہے ، آدمی کے جسم میں زخم لگتا ہے ، تو وہاں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں ، پیٹ میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں ۔

       
دوسری قسم کی مخلوق وہ ہے ، جو مٹی سے پیدا ہوتی ہیں ، اور ان میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے ، جیسے مچھلی ، براہِ راست کیچ سے بھی پیدا ہوتی ہے ، اور اس میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے ، ان میں نر و مادہ ہوتے ہیں ، ان کے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ، اور براہِ راست مٹی سے بھی وہ پیدا ہوتی ہے ۔

       
تیسری قسم کی مخلوق وہ ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے شروع میں مٹی سے بنایا ، پھر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہوا ، اب دوبارہ سیدھے مٹی سے پیدا نہیں ہوتے ، پہلی گائے اور پہلا بیل براہِ راست مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ، پھر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہوا ، اسی طرح انسان کے پہلے دو فرد مٹی سے پیدا کئے گئے ، پھر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہوگیا ، اب انسان سیدھے مٹی سے پیدا نہیں ہوتے ۔

       
حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں ، وہ مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ، اور دادی حواء رضی اللہ عنہا کے بارے میں روح المعانی جلد نمبر ٤ صفحہ نمبر ١٨١ کے حاشیہ میں امام باقر رحمہ اللہ تعالیٰ ( جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے خاص شاگرد ہیں ) کی طرف منسوب کرکے یہ قول لکھا ہے ، کہ حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنانے کے بعد جو مٹی بچ گئی تھی ، اس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء رضی اللہ عنہا کو بنایا : قیل : اِنھا خُلقت من فضل طینتہ ، و نُسب للباقر ، اور یہ جو مشہور ہے کہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ، یہ اسرائیلی روایات ہے ، اور آنحضورﷺ کا یہ ارشاد کہ عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو ، کیونکہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ، اور پسلیوں میں سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر کی ہے ، یعنی اس نہایت کج پسلی سے عورتیں پیدا کی گئی ہیں ( مشکوٰۃ شریف حدیث نمبر ٣٢٣٨ ) اس حدیث میں عورت کی تخلیق کا بیان نہیں ہے ، بلکہ نسوانی فطرت میں نہایت کجی کی تمثیل ہے ، اور یہ تصور کہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں جانب کی سب سے اوپر کی پسلی سے پیدا کی گئیں ہیں ، یہ تصور بائبل ( کتاب پیدائش : باب ٢ آیات ٢٢ ‌= ٢٤ ) کا ہے ، پھر وہاں سے اسلامی روایات میں آیا ہے ۔

حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے کیوں پیدا کئے گئے :

       
یہاں سے اس اعتراض کا جواب بھی نکل آیا ، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف بغیر باپ کے کیوں پیدا کئے گئے ؟ ان کو بھی بغیر ماں باپ کے مٹی سے کیوں پیدا نہیں کیا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ انسان کے صرف پہلے دو فرد مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ، پھر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہوا ہے ، اس کے بعد کوئی انسان براہِ راست مٹی سے پیدا نہیں ہوا ، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق اس طرح کیسے ہوتی ؟

       
رہی چوتھی بات : یعنی ان کا آسمان پر اٹھایا جانا ، جس سے عیسائیوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ، اس کا جواب میں نے ایک دوسری تقریر میں تفصیل سے بیان کیا ہے ، اس لئے اس کا ذکر چھوڑتا ہوں ، اب آخری بات عرض کرتا ہوں ۔

الوہیت اور احتیاج میں منافات ہے :

       
کچھ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو بھی خدائی میں شریک گردانتے ہیں ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نیک بندی تھیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ } ( المائدہ آیت نمبر ٧٥ ) ان کی والدہ ، صدیقہ تھیں ، دونوں کھانا کھاتے تھے ، اور جو کھانا کھاتا ہے ، وہ کھانے کا محتاج ہوتا ہے ، پھر جو کھانا کھاتا ہے ، اس کو بیت الخلاء کی بھی حاجت ہوتی ہے ، اور اللہ تعالٰی کا کلام چونکہ نہایت فصیح و بلیغ ہے ، اس لئے یہ بات صراحةً نہیں کہی گئی ، مگر مراد ہے ، اور احتیاج خدائی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی ، پس ثابت ہوگیا ، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور ان کی والدہ اللہ تعالیٰ کی نیک بندی ہیں ۔


وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن

مکمل تحریر >>