Friday, 25 March 2016

!!! تراویح کی بیس رکعتیں سنت ہیں!!!

!!! تراویح کی بیس رکعتیں سنت ہیں!!!

           
خطبۂ مسنونہ کے بعد: شَھْرُ رَمَضَانَ الذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ القُرْآنُ۔ و قال النبی ﷺ: ‌مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَ احْتِِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قامَ رَمَضَانَ إِِيْمَاناً وَإحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ( متفق علیہ ) و قال أنس رضی اللہ عنہ: فَرضَ اللہُ صِیَامَ رمضان، و سَنَّ رسولُ اللہ ﷺ قیامہ۔

           
بزرگو اور بھائیو! یہ ماہ مبارک چل رہا ہے، اس مہینے کا قرآن کریم سے، اور قرآن کریم کا اس مہینے سے خاص تعلق ہے، اس مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا ہے، ارشادِ پاک ہے: رمضان کا مہینہ ایسا مہینہ ہے، جس میں قرآن کریم اتارا گیا ہے، اس لئے قرآن کریم کا حق ادا کرنے کےلئے اس مہینے میں دو اعمال رکھے گئے ہیں،
 ❶ دن میں روزے رکھنا،
❷ رات میں سونے سے پہلے نفلیں( تراویح ) پڑھنا، اور یہ دونوں اعمال چونکہ لمبے ہیں، پورا مہینہ پابندی سے کرنے ہوتے ہیں، اس لئے دونوں کو آسان بنانے کےلئے بخاری و مسلم کی روایت میں ایک فارمولہ( آسان طریقہ ‌) بیان کیا گیا ہے، ارشاد فرمایا: ‌مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَ احْتِِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قامَ رَمَضَانَ إِِيْمَاناً وَإحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِِهِ یعنی جو شخص رمضان المبارک کے روزے رکھے، اور رمضان المبارک کی راتوں میں سونے سے پہلے نفلیں پڑھے، تو ہر ایک عمل کا ثواب یہ ہے کہ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔

             
یہ جو ثواب بیان کیا گیا ہے، اس کا یقین ہو، اور اس ثواب کو پیشِ نظر رکھے، تو دونوں کام آسان ہوجائیں گے، اس حدیث میں لفظِ ایمان شرعی اصطلاح نہیں، بلکہ لغوی معنیٰ میں ہے، یعنی ثواب کا یقین کرنا، اسی لئے عطفِ تفسیری کے طور پر َإحْتِسَاباً لائے ہیں، احتساب کے معنیٰ ہیں ثواب کی امید رکھنا، یعنی اس کو پیشِ نظر رکھنا۔

             
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزے فرض کئے، اور رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کی راتوں میں سونے سے پہلے نوافل مسنون کئے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دن کے مزاج میں انقباض ہے، اور رات کے مزاج میں انبساط ہے، اور روزہ چونکہ علاحدہ علاحدہ رکھنا ہے، جو انقباض کے ساتھ بھی رکھا جاسکتا ہے، اور قرآن کریم رمضان المبارک میں پورا پڑھنا ہے، اور ہر ایک کو قرآن کریم حفظ نہیں ہوتا، پس جو حافظ ہے، وہ جہراً پڑھے گا، اور دوسرے سنیں گے، اور پڑھنے اور سننے کےلئے طبیعت میں انبساط چاھئے، اس لئے تراویح رات میں رکھی گئی ہے۔

               
یہاں سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ تراویح، رمضان المبارک کی زائد نماز ہے، اور صلاة اللیل یعنی تہجد، جو پورے سال کی نماز ہے، وہ انفرادی نماز ہے، کیونکہ رات کے آخر میں لوگوں کا اجتماع مشکل ہے، پس جو لوگ دونوں نمازوں کو ایک سمجھتے ہیں، وہ غلط ہے؛ بلکہ یہ دو نمازیں بالکل ایک دوسرے سے علاحدہ ہیں، ایک: صلاة اللیل یعنی تہجد کی نماز ہے، یہ نماز سال بھر پڑھی جاتی ہے، رمضان المبارک اور غیر رمضان المبارک ہر زمانہ میں پڑھی جاتی ہے، تہجد کے معنیٰ ہیں: تَرْکُ الجُھودِ، نیند چھوڑنا، چونکہ یہ نماز رات کے آخری حصہ میں پڑھی جاتی ہے، آدمی پہلے سوجاتا ہے، پھر اٹھ کر اس نماز کو پڑھتا ہے، اس لئے اس کا نام تہجد ہے، دوسرا نام اس کا صلاۃ اللیل ہے، دوسری: قیامِ رمضان یعنی تراویح ہے، یہ رمضان المبارک کی خصوصی نماز ہے، یہ نماز صرف رمضان المبارک میں پڑھی جاتی ہے، باقی گیارہ مہینوں میں یہ نماز نہیں پڑھی جاتی۔

           
اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نہ تو تراویح کی رکعتوں کی تعداد متعین تھی، اور نہ یہ نماز باجماعت پڑھی جاتی تھی، صرف اس کی ترغیب دی جاتی تھی، کہ یہ ایسی نماز ہے جو گذشتہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، چنانچہ لوگ رمضان المبارک میں سونے سے پہلے اپنے طور پر یہ نماز پڑھتے تھے، اللہ تعالیٰ جس کو جتنی توفیق دیتا، وہ اتنی رکعتیں پڑھتا، پھر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی یہی طریقہ رہا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی چھ سال سخت آزمائش کے تھے، مسلمان بیک وقت دو سپر پاور: ایران و روم کے ساتھ جنگوں میں مصروف تھے، جب یہ دونوں طاقتیں ٹوٹیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت کے آخری سالوں میں ملک و ملت کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے کام کئے ہیں، ان میں سے ایک کام باقاعدہ جماعت کے ساتھ تراویح کا نظام بنانا بھی ہے، شروع میں امام تراویح کی آٹھ رکعتیں پڑھاتا تھا، اور سحری کے وقت تک پڑھاتا تھا، مؤطا مالک میں روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے گیارہ رکعتیں ‌( آٹھ تراویح اور تین وتر ) پڑھانے کا حکم دیا، جن سے لوگ فجر سے کچھ ہی دیر پہلے فارغ ہوتے تھے( موطا مالک صفحہ نمبر ٤٠ ) اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ تہجد کی نماز ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی کہ رسول اللہ ﷺ نے جو دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی ہے، وہ بیس رکعتیں پڑھائی ہیں، اور آنحضرت ﷺ تنہا بھی سونے سے پہلے بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں بغیر جماعت کے بیس رکعتیں اور وتر پڑھتے تھے( سنن بیہقی کبریٰ جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ٤٩٦ ) اور علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے التلخیص الحبیر فی تخریج أحادیث الرافعی الکبیر جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ١٩٩ میں یہ روایت لکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دن جماعت سے جو نماز پڑھائی تھی، وہ بیس رکعتیں پڑھائی تھیں، حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس روایت کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نظام بدل دیا، اور دونوں اماموں: حضرت ابی ابن کعب، اور حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ بیس رکعتیں پڑھائیں، اور مختصر پڑھائیں، اور لوگوں کو سونے کا موقع دیں، پھر آخری پہر لوگ اٹھ کر تہجد پڑھیں، بخاری شریف( حدیث شریف نمبر ٢٠١٠ ‌) میں ہے کہ اس نئے نظام کے شروع ہونے کے بعد ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں تشریف لائے، لوگوں کو ایک امام کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: نعم البدعة ھٰذہ، یعنی لوگ جو اس نماز کو بدعت کہتے ہیں، وہ صحیح نہیں، یہ تو شاندار نئی بات ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس نماز کو لوگوں کے خیال کے مطابق بدعت( نئی بات ) کہا ہے، اور نعم سے اس کی تردید کی ہے، جب تراویح کا باقاعدہ نظام بنا تو لوگوں میں چہ می گوئیاں ہوئیں کہ یہ کیا نئی بات شروع ہوئی، جیسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی پختہ بنائی تو بعض لوگوں نے کہا: یہ تو کسریٰ کا محل بن گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس خیال کی تردید کی، کہ یہ اگر نئی چیز ہے تو نہایت شاندار نئی چیز ہے، کیونکہ اس کی اصل موجود ہے، اور وہ آپ ﷺ کا دو دن یا تین دن باجماعت نوافل پڑھانا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لفظِ بدعت اس کے لغوی معنیٰ میں استعمال کیا ہے، اور بالفرض کلام کیا ہے، لغوی معنیٰ کے اعتبار سے بدعت: بدعتِ حسنہ بھی ہوتی ہے، اور بدعتِ سیئہ بھی، اور بدعتِ اصطلاحی صرف بدعتِ سیئہ ہوتی ہے، وہ حسنہ نہیں ہوتی۔

         
پھر دوسری بات آپؓ نے یہ فرمائی: و التی ینامون عنھا أفضلُ من التی یقومون، جس نماز سے لوگ سوتے رہتے ہیں، وہ اس نماز سے افضل ہے، جس کو وہ پڑھتے ہیں، یعنی تراویح سے افضل تہجد ہے، لٰہذا لوگوں کو چاھئے کہ جس طرح تراویح اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں، تہجد کی نماز بھی پڑھیں، اس ارشاد سے یہ بات صاف ہوگئی کہ تراویح، تہجد کی نماز نہیں بلکہ یہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں، ایک کا وقت سونے سے پہلے ہے، اور دوسری کا سونے کے بعد، ایک کی بیس رکعتیں ہیں، اور دوسری کی آٹھ رکعتیں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے آج تک امت شرقاً غرباً تراویح جماعت کے ساتھ بیس رکعتیں پڑھتی چلی آرہی ہے، صرف غیر مقلدین اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: تراویح کی آٹھ رکعتیں ہیں، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث جو بیہقی اور مصنف ابن ابی شیبہ( حدیث شریف نمبر ٧٧٧٤ طبع شیخ محمد عوامہ) میں ہے، اس کو ضعیف بتاتے ہیں، مگر غیر مقلدین کا یہ خیال صحیح نہیں، اس لئے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث قیام رمضان( تراویح ‌) سے متعلق نہیں ہے، بلکہ قیام لیل( تہجد ) سے متعلق ہے، رسول اللہ ﷺ یہ آٹھ رکعتیں سال بھر پڑھتے تھے، اور تراویح صرف رمضان المبارک میں پڑھی جاتی ہے۔

           
علاوہ ازیں بیس رکعت تراویح پر چاروں ائمہ، تمام صحابہ، تابعین اور تمام علماء کا اجماع ہے، اگر بالفرض حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث شریف کو تراویح سے متعلق کیا جائے، تو غیر مقلدین حضرات سے عرض ہے کہ آنحضورﷺ اس نماز کو سال بھر پڑھتے تھے، آپ بھی سال بھر پڑھیں تو ہم جانیں، کہ آپ اہلِ حدیث ہیں، یہ کیا کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو! اور اگر وہ کہیں کہ نبی پاک ﷺ نے صرف تین دن، یا دو دن رمضان المبارک میں جماعت سے نماز پڑھی ہے، اس لئے ہم اس پر عمل کرتے ہیں، تو سنیں: اس حدیث شریف پر عمل کرنا ہے تو تراویح جماعت کے ساتھ صرف دو دن، یا تین دن پڑھو، پھر مسجدوں سے جاؤ، تاکہ فتنہ ختم ہو، اور وہ بھی مہینہ کی آخری تاریخوں میں آؤ، تاکہ پورا رمضان مسجدوں میں سکون رہے۔

خلاصۂ کلام:

             
باجماعت تراویح کا نظام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت سے شروع ہوا ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے گیارہ رکعتیں پڑھانے کا حکم دیا تھا، جس کو تہجد کے وقت تک جاری رکھا جاتا تھا، اور اس کا مدار تہجد کی روایت پر تھا، مگر بعد میں یہ بات واضح ہوئی کہ رمضان المبارک میں بھی تہجد اپنی جگہ ہے، اور قیامِ رمضان( تراویح )اس کے علاوہ نماز ہے، چنانچہ آپ ؓ نے اس روایت کی بنا پر، جس کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے، رکعتوں کی تعداد بڑھادی، اور قرأت میں تخفیف کردی، تاکہ لوگ تراویح سے فارغ ہوکر سوجائیں، اور آخرِ شب میں اٹھ کر حسبِ معمول تہجد پڑھیں، چنانچہ اس وقت سے آج تک شرقاً غرباً یہی نظام چل رہا ہے، اور اس پر پوری امت کا اجماع ہے، صرف غیر مقلدین اختلاف کرتے ہیں، مگر گمراہ فرقوں کا اختلاف اجماع پر اثر انداز نہیں ہوتا، حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالیٰ نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا، کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تراویح کی بیس رکعتوں کےلئے آنحضرت ﷺ کی جانب سے کوئی عہد تھا؟ امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی طرف سے ایجاد کرنے والے نہیں تھے، یقیناﹰ ان کے پاس اس کا ثبوت تھا ‌( فتح الباری جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ٤٢٠، بیروت قدیم ) چنانچہ حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ التلخیص الحبیر میں یہ روایت لکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دن جماعت کے ساتھ جو نماز پڑھائی تھی، وہ بیس رکعتیں پڑھائی تھیں، حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس حدیث کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بیہقی کے حوالہ سے میں نے ابھی بیان کی، کہ نبی پاک ﷺ ماہِ رمضان میں بلا جماعت بیس رکعتیں اور وتر پڑھتے تھے، یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، مگر تعامل سے اس کی تائید ہوتی ہے، بلکہ تعامل کی صورت میں سرے سے روایت کی ضرورت نہیں رہتی، مثلاﹰ کلمۂ طیبہ: لا اِلٰہ اِلا اللہ، محمد رسول اللہ، کسی روایت سے ثابت نہیں، اگرچہ اس کے دونوں اجزاء قرآن کریم میں ہیں، مگر دونوں کا مجموعہ کلمۂ طیبہ ہے، یہ بات کسی ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں، مگر چونکہ پوری امت کا اس پر تعامل ہے، اور اجماع قوی دلیل ہے، اس لئے سند کی مطلق حاجت نہیں۔

           
اور غیر مقلدین اس بات کا اس لئے انکار کرتے ہیں کہ وہ اہل حدیث ہیں، وہ قرآن کریم کے بعد صرف حدیثوں کو حجت مانتے ہیں، اس سے نیچے اجماعِ امت کو، بلکہ اجماعِ صحابہ کو بھی حجت نہیں مانتے، نہ آثارِ صحابہ( صحابہ کی انفرادی آراء ‌) کو حجت مانتے ہیں، حتیٰ کہ خلفائے راشدین کی آراء کو، اور ان کے زمانہ میں جو باتیں صحابہ کے اجماع سے طے ہوئی ہیں، ان کو بھی حجت نہیں مانتے، اس لئے وہ گمراہ فرقہ ہے، اور کسی بھی گمراہ فرقہ کا اختلاف اجماع کو متأثر نہیں کرتا، ورنہ شیعہ بھی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے، تو کیا ان کی خلافت بھی اختلافی ہوجائے گی؟ توبہ! اس لئے غیر مقلدین کی اس بات سے واقف رہنا ضروری ہے، اور وہ جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بخاری شریف کی حدیث پیش کرتے ہیں، اس کا تراویح کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں، اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاھئے۔

وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن
مقرر : حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم ،شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

ناقل : عادل سعیدی پالن پوری

مکمل تحریر >>

Wednesday, 23 March 2016

قیام اللیل{ تہجد } جماعت کے ساتھ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

قیام اللیل{ تہجد } جماعت کے ساتھ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

             
ایک دوسرا مسئلہ اور پوچھا گیا، کہ قیام اللیل جماعت سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ میں نے کہا کہ اس کا کوئی شرعی ثبوت نہیں ہے، کہنے لگے کہ فاؤنڈیشن{ ٹورنٹو کی ایک بڑی مسجد } میں تو ہوتا ہے، میں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، یہ تو حرمین شریفین میں بھی ہوتا ہے، دلیل: قرآن و حدیث اور فقہ ہے، قرآن و حدیث تو چاروں ائمہ کا مشترک سرمایہ ہے، اور فقہ چاروں اماموں کی الگ الگ ہے، ہمارے نزدیک قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی حجت اور دلیل ہیں، فاؤنڈیشن اور حرمین شریفین کوئی دلیل نہیں ہے۔

حضور ﷺ نے رمضان میں دو یا تین راتیں جماعت سے تراویح پڑھائی تھی:

           
پھر میں نے انہیں سمجھایا کہ نبی پاک ﷺ لوگوں کو رمضان المبارک کی راتوں میں سونے سے پہلے اضافی نفلیں پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے، رات میں اٹھ کر تہجد کی نماز تو بارہ مہینے پڑھنی ہے، رمضان میں بھی پڑھنی ہے، لیکن رمضان المبارک میں ایک اضافی نماز ہے، جس کا نام: قیامِ رمضان ہے، حضور اکرم ﷺ  اس کی ترغیب دیا کرتے تھے، اس کےلئے کوئی جماعت نہیں کرتے تھے، فرمایا: وَمَنْ قامَ رَمَضَانَ إِِيْمَاناً وَإحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِِهِ، جس نے رمضان المبارک کی راتوں میں سونے سے پہلے نفلیں پڑھیں، ان نفلوں پر جو ثواب کا وعدہ ہے، اس کا یقین کرتے ہوئے، اور اس ثواب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے، اس طرح حضور اکرم ﷺ ترغیب دیا کرتے تھے، اور صحابہؓ خوب نفلیں پڑھتے تھے، جب تک اللہ سبحانہ وتعاليٰ ان کو توفیق دیتے تھے، اور یہ سب مسجد نبوی میں پڑھتے تھے، ایک رات نبی پاک ﷺ اپنے چٹائیوں والے اعتکاف کے مخصوص کمرے سے باہر نکلے، کیونکہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے آخری دنوں کا ہے، اور حضور اکرم ﷺ آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور اعتکاف کا کمرہ صرف حضور اکرم ﷺ کےلئے بنایا جاتا تھا، کسی اور صحابی کےلئے نہیں بنایا جاتا تھا، سہارنپور میں جب ہم اعتکاف کرتے تھے، تو مسجد میں پانچ سو اعتکاف کرنے والے ہوتے تھے، اور مسجد میں صرف حضرت شیخ قدس سرہ کےلئے چار پانچ آدمیوں کی جگہ کے بقدر کمرہ بنتا تھا، کیونکہ حضرت کے پاس صبح سے شام تک مریدین آیا کرتے تھے، اپنے حالات سنایا کرتے تھے، اور مشورے لیتے تھے، تو حضرت کےلئے ہی حجرہ بنتا تھا، باقی کسی کےلئے نہیں بنتا تھا۔

             
الغرض حضور اکرم ﷺ اپنے کمرے سے باہر نکلے، اور مسجد میں جو صحابہ نماز پڑھ رہے تھے، ان سے کہا: آؤ! میں تمہیں نماز پڑھاؤں، حضور اکرم ﷺ نے کافی دیر نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ ﷺ کمرے میں چلے گئے، صبح میں اس نماز کا چرچا ہوا، تو اس امید پر کہ شاید اگلی رات بھی حضور اکرم ﷺ نماز پڑھائیں، کافی تعداد، ان لوگوں کی مسجد میں رک گئی، جو گھر میں نفلیں پڑھتے تھے، چنانچہ پچھلے دن جتنا وقت گذرا تھا، اتنا وقت گذرنے کے بعد حضور اکرم ﷺ پھر تشریف لائے، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، اور آج کل سے بھی زیادہ وقت لیا، جب دو دن پڑھائی، تو اب لوگوں کو ظنِ غالب ہوگیا کہ اب آپ ﷺ ہر رات یہ نماز پڑھائیں گے، چنانچہ اگلی رات مجمع اور بڑھ گیا، تیسری رات میں بھی آپ ﷺ معینہ وقت پر نکلے، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، اور پہلے دو دنوں سے بھی زیادہ آج وقت لیا، جب تیسری رات بھی آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، تو لوگوں کو یقین ہوگیا، کہ آپ ﷺ ہر رات یہ نماز پڑھائیں گے؛ کیونکہ راتیں دو یا تین رہ گئی تھیں، پس چوتھی رات کو اتنے لوگ اکھٹا ہوگئے کہ مسجد میں تِل دھرنے کی جگہ نہ رہی، مقررہ وقت ہوا؛ مگر آپ باہر تشریف نہیں لائے، لوگوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید آپ ﷺ کی آنکھ لگ گئی ہو، زور سے تکبیر اور تسبیح پڑھی، کسی نے چٹائی پر کنکری ماری؛  تاکہ آپ ﷺ کی آنکھ کھل جائے، مگر حضور اکرم ﷺ سوئے نہیں تھے، بہرحال آج حضور اکرم ﷺ نہیں نکلے، لوگ مایوس ہوکر منتشر ہوگئے، فجر کی نماز کے بعد حضور اکرم ﷺ نے تقریر کی، کہ رات کا تمہارا عمل مجھ سے مخفی نہیں تھا، مگر میں نے تمہارا جو اشتیاق دیکھا، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر لازم نہ ہوجائے، اس لئے آئندہ میں یہ نماز نہیں پڑھاؤنگا، اپنے اپنے طور پر جیسے پہلے پڑھتے تھے، پڑھتے رہو۔

           
اکثر احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود آتے ہیں، مگر بعض احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت آتے ہیں، جب امت خواہش کرے، اور نبی صادر کرے، یا نبی خواہش کرے، اور امت صادر کرے تو وہ حکم لازم ہوجاتا ہے، اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک پیچھے ہٹ جائے، تو پھر وہ حکم لازم نہیں ہوتا، یہ نماز اسی قبیل کی تھی، کہ امت خواہش کررہی ہے، مگر نبی ﷺ پیچھے ہٹ گئے۔

             
اور جو میں نے حدیث بیان کی، اس میں روایتیں مختلف ہیں، بعض روایتوں میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دو راتیں نماز پڑھائی، اور تیسری رات تشریف نہیں لائے، اور کچھ روایتوں میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تین راتیں نماز پڑھائی، اور چوتھی رات تشریف نہیں لائے۔

         
یہ حدیث جو میں نے آپ حضرات کے سامنے بیان کی، اس میں غور کیجئے، کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ جو دو یا تین راتیں نماز پڑھائی تھی، وہ کونسی نماز تھی؟ تراویح یا تہجد؟ غیر مقلدین کہتے ہیں: یہ حضور نے تہجد پڑھائی تھی، اور چاروں ائمہ کے متبعین کہتے ہیں: یہ حضور اکرم ﷺ نے تراویح پڑھائی تھی، اور اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ ماہِ رمضان المبارک میں تنہا بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے، [ عن ابن عباس، قال: کان النبی ﷺ یصلی فی شھر رمضان فی غیر جماعة عشرین رکعة، و الوتر تفرد بہ أبو شیبة اِبراھیم بن عثمان العبسی الکوفی، و ھو ضعیف، سنن بیھقی کبریٰ جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ٤٩٦ ‌] پس ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان دو یا تین راتوں میں یہی بیس رکعتیں پڑھائی ہونگی، غیر مقلدین کہتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے، اس میں فلاں راوی ضعیف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ضعیف ہے تو کیا آسمان ٹوٹ پڑا؟ اس کے مقابل کوئی صحیح روایت ہو تو لاؤ، وہ کہتے ہیں: حضرت عائشہ کی بخاری اور مسلم والی روایت ہے، ہم کہتے ہیں: وہ تہجد کے بارے میں ہے، تراویح کے بارے میں بتاؤ، کہ اس کے علاوہ کوئی روایت ہے؟ کوئی نہیں ہے۔

           
اور مسئلہ یہ ہے کہ صحیح اور ضعیف میں ٹکراؤ ہو تو ضعیف نہیں لیں گے؛ لیکن اگر کسی مسئلہ میں صحیح روایت نہ ہو، ضعیف حدیث ہی ہو، تو وہ ضعیف حدیث لی جائے گی، چنانچہ یہاں بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت لی جائے گی، پھر جب اس ضعیف حدیث کے مطابق ساری دنیا کے مسلمانوں کا تعامل شروع ہوگیا، تو اس کا ضعف ختم ہوگیا، اب مسئلہ کا سارا مدار تعامل پر ہوجائیگا۔

           
بہرحال یہ اختلاف ہوگیا، چاروں ائمہ کے ماننے والے حضور اکرم ﷺ کی پڑھائی ہوئی نماز کو قیامِ رمضان ‌{ تراویح } سمجھتے ہیں، اور غیر مقلدین اس کو قیام اللیل{ تہجد ‌} سمجھتے ہیں، تو فاؤنڈیشن والوں، یا حرمین والوں کا خیال اگر یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ نماز قیام اللیل پڑھائی تھی، تو تم قیام اللیل جماعت سے پڑھو، تراویح جماعت سے کیوں پڑھتے ہو، جب تمہارے خیال میں حضور ﷺ نے تراویح پڑھائی ہی نہیں، تو اس کو کیوں پڑھتے ہو؟

         
اور چاروں ائمہ کے ماننے والوں کا خیال یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ تراویح کی نماز پڑھائی تھی، اس لئے وہ پورا مہینہ یہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور حضور اکرم ﷺ نے پورا مہینہ اس لئے نہیں پڑھائی تھی کہ فرضیت کا اندیشہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ملت کی تنظیم کی، اور اس کا باقاعدہ نظام بنایا، اور خلفائے راشدین کے وہ طریقے جو ملک و ملت کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو لینا ضروری ہے، حضور اکرم ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے، اس لئے ہم پورے مہینے تراویح جماعت سے پڑھتے ہیں،  قیام اللیل جماعت سے نہیں پڑھتے، کیونکہ ہمارے خیال میں حضور اکرم ﷺ نے یہ نماز نہیں پڑھائی، پس ہم جو سمجھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، اور وہ لوگ جو سمجھتے ہیں، اس پر وہ خود عمل نہیں کرتے، بہرحال قیام اللیل خواہ رمضان المبارک میں ہو، یا غیر رمضان المبارک میں، حضور اکرم ﷺ کا جماعت سے پڑھنا ثابت نہیں، اس لئے ہماری فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ رمضان المبارک میں قیام اللیل جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔

             
یہاں اگر کوئی سوال کرے کہ حضرت مدنی قدس سرہ تہجد کی نماز جماعت سے پڑھتے تھے، اور ان کے پیچھے بڑا مجمع ہوتا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم حنفی ہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی فقہ مدون ہے، اس پر عمل کرنے والے ہم حنفی ہیں، اور احناف میں اکابر کے کچھ تفردات ہوتے ہیں، کچھ الگ رائیں ہوتی ہیں، یہ حضرت مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تفرد تھا [ حضرت مدنی قدس سرہ کی رائے تھی کہ رمضان میں نوافل جماعت کے ساتھ پڑھے جاسکتے ہیں، تداعی کے ساتھ بھی، اور بغیر تداعی کے بھی، حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ ایک تحریر میں لکھتے ہیں: ‌‌"اس لئے تمام وہ نوافل جو رمضان کی راتوں میں پڑھی جائیں، مراد ہونگی، خواہ تراویح میں، خواہ تہجد میں، اوائلِ شب میں ہوں، یا اواخر میں، سب میں جماعت کی اجازت ہوگی ‌‌" پھر آگے تحریر فرماتے ہیں: ‌‌"پس رمضان کے جملہ نوافل کی جماعت خواہ بالتداعی ہو، یا بلاتداعی، سب کی سب ماذون فیہ، بلکہ مستحب ہوگی ‌‌" فتاویٰ شیخ الاسلام صفحہ نمبر ٤٤ و ٤٥، مرتبہ: مولانا مفتی سلمان منصورپوری صاحب ] اس کو حضرت کے ساتھ خاص رکھیں گے، اور ہم اتباع کریں گے فقہِ حنفی کا، جیسے علامہ ابن ہمام بہت بڑے حنفی عالم ہیں، ان کی چودہ مسئلوں میں امام ابوحنیفہ ؒ سے الگ رائے ہے، اور ان کے شاگرد قاسم بن قطلوبغاؒ نے لکھا ہے کہ استاد کے تفردات مفتیٰ بہ نہیں، تو ہر بڑے عالم کی کچھ مسائل میں الگ رائے ہوتی ہے، اس کی ہم اتباع نہیں کریں گے، اتباع ہم فقہِ حنفی کی کریں گے۔

                 
جاننا چاھئے کہ فقہی اصطلاحات کے معانی، کتبِ فقہ سے لینے چاہئیں، لغت سے اس کے معنیٰ نہیں لینے چاہئیں، جیسے دارالاسلام اور دارالحرب فقہ کی دو اصطلاحیں ہیں، دارالاسلام کے لغت میں معنیٰ ہیں: وہ ملک جہاں تمام اسلامی قوانین جاری ہوں، ایسا ملک تو دنیا میں سعودیہ کے علاوہ کوئی نہیں، اور دارالحرب کے لغت میں معنیٰ ہیں: لڑائی کا ملک، یعنی جہاں مسلمانوں کے ساتھ جنگ چل رہی ہے، تو انڈیا اور کناڈا میں مسلمانوں کے ساتھ کہاں جنگ چل رہی ہے؟ پس انڈیا اور کناڈا جیسے ملک دارالحرب کیسے ہوں گے؟ چنانچہ لوگ اشکال کرتے ہیں کہ انڈیا اور کناڈا جیسے ملک دارالحرب کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہاں کونسی مسلمانوں کے ساتھ جنگ چل رہی ہے، یہاں تو مذہبی اعتبار سے مکمل آزادی ہے، لوگوں نے یہ اشکال ان کے معنیٰ لغت میں دیکھ کر کھڑا کیا ہے، یہ تو فقہ کی اصطلاحیں ہیں، لٰہذا فقہ کی کتابوں میں ان کے معنیٰ دیکھ کر مفہوم طے کیا جائے، اورفقہ میں دارالحرب اس ملک کو کہا جاتا ہے، جہاں اقتدارِ اعلیٰ کافروں کے ہاتھ میں ہو، اور جہاں اقتدارِ اعلیٰ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، وہ دارالاسلام ہے، چاہے وہاں اسلامی قوانین جاری ہوں، یا نہ ہو، ایسے ہی تداعی کے معنیٰ لغت میں دیکھ کر طے نہیں کئے جائیں گے، یہ فقہ کا اصطلاحی لفظ ہے، چنانچہ اس کے معنیٰ بھی فقہ کی کتابوں میں دیکھ کر طے کئے جائیں گے، اور فقہ میں تداعی کے معنیٰ ہیں: کوئی بھی نفل نماز اگر اس میں ایک امام اور تین مقتدی ہوں، تو تداعی ہے، چاہے بلایا گیا ہو، یا نہ بلایا گیا ہو۔

           
اسی لئے فتاویٰ شیخ الاسلام میں حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کے نواسے ‌‌"‌‌مفتی محمد سلمان منصورپوری " نے اس مسئلہ پر حاشیہ لکھا ہے، کہ فقہِ حنفی کی رو سے تداعی کے یہ معنیٰ ہیں، اور حضرت رحمہ اللہ  نے جو کچھ لکھا ہے، یہ حضرت کا تفرد ہے [ مفتی سلمان منصورپوری صاحب دامت برکاتھم کا حاشیہ یہ ہے ‌‌"‌‌یہ مسئلہ حضرت ؒ کے تفردات میں سے ہے، جسے حضرت ؒ نے مجتہدانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے براہِ راست احادیث شریفہ سے مستنبط فرمایا ہے، لیکن احقر کو حضرت ؒ کے اس موقف کی تائید فقہِ حنفی کے کسی جزئیہ سے نہیں ملی، بلکہ مبسوط سرخسی اور دیگر کتبِ احناف میں تین چار سے زیادہ مقتدی ہونے کی صورت میں نوافل کی جماعت کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے، مبسوط سرخسی جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ١٤٤، بریں بنا مسئلۂ زیرِ بحث میں فقہِ حنفی کی رو سے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف ہی راجح اور مضبوط ہے ‌‌"‌‌ محمد سلمان۔ نوٹ: حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فتاویٰ رشیدیہ میں جماعتِ تہجد کو مکروہ لکھا ہے ] لٰہذا ہم حنفی ہونے کی حیثیت سے اس کی اتباع نہیں کریں گے۔

         
بہرحال یہ جو سوال تھا کہ قیام اللیل جماعت سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک امام اور دو مقتدی ہوں، تو کوئی کراہیت نہیں، لیکن اگر ایک امام اور تین مقتدی ہوں، تو پھر مکروہ ہے، چاہے بلایا گیا ہو، یا بلایا نہ گیا ہو، اور جو لوگ پڑھتے ہیں انکو پڑھنے دو، دنیا میں اعمال میں اتحاد کہاں ہے؟ ہماری اسی مسجد میں آدھے آمین بالجہر کہتے ہیں، اور آدھے بالسر، آدھے رفعِ یدین کرتے ہیں، اور آدھے نہیں کرتے، نہ یہ اُن سے لڑتے ہیں، اور نہ وہ اِن سے لڑتے ہیں، کوئی کھڑا ہوتا ہے تو پیروں کے درمیان چار، چھ انگلیوں کا فاصلہ رکھتا ہے، اور کوئی کھڑا ہوتا ہے تو پیروں کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھتا ہے، تو اعمال میں اتحاد کہاں ہے؟ اتحاد ایمان و عقائد میں ہونا چاھئے، پس اگر فلاں اور فلاں جگہ کے لوگ قیام اللیل جماعت سے پڑھتے ہیں، تو پڑھنے دو، آپ اپنے طریقہ پر چلیں، اور وہ اپنے طریقے پر، ایک منہاج پر چلو، یہ نہیں کہ کبھی اِدھر، اور کبھی اُدھر، یوں دین کی خیر نہیں رہے گی۔

وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن

             
تقریر کے بعد ایک سوال: دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید اور مسجد چھتہ میں تو تہجد کی جماعت ہوتی ہے، جبکہ دارالعلوم دیوبند مسلکِ حنفی کا ترجمان ہے؟

               
جواب: یہ صاحبزادگان کا عمل ہے، دارالعلوم دیوبند کا عمل نہیں ہے، رمضان المبارک میں حضرت مدنی قدس سرہ کے صاحبزادگان ان دو مسجدوں میں اپنے مریدین کے ساتھ اعتکاف کرتے ہیں، اور حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کے بعض خلفاء کی طرح یہ حضرات بھی جماعت کے ساتھ تہجد پڑھتے ہیں، پس یہ انکا اپنا عمل ہے، دارالعلوم دیوبند سے اس کا کوئی تعلق نہیں، چنانچہ دارالعلوم دیوبند کی مسجد قدیم میں یہ عمل نہیں ہوتا۔

مقرر: حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم، شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند 
ناقل: عادل سعیدی پالن پوری 
مکمل تحریر >>

Monday, 21 March 2016

دس دن میں قرآنِ کریم ختم کرنا کیسا ہے؟

دس دن میں قرآنِ کریم ختم کرنا کیسا ہے؟

مقرر : حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم ، شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

ناقل : عادل سعیدی پالن پوری

         
بزرگو اور بھائیو! ایک سوال لوگ بار بار پوچھ رہے ہیں؛ کہ دس دن میں قرآن کریم ختم کرنا کیسا ہے؟، یہاں{ کناڈا میں } میں بہت سالوں سے آرہا ہوں، پہلے یہ سلسلہ ٹورنٹو میں نہیں تھا، تین سال پہلے آیا، تو ایک جگہ یا دو جگہ یہ سلسلہ قائم ہوا، اور اب آیا تو دسیوں جگہ اس کو پایا، اور باقاعدہ اعلانات اور اشتہارات چھاپ کر مسجدوں کے دروازوں پر چپکائے گئے، ہماری مسجد میں بھی یہ اشتہار چپکایا گیا، الغرض یہ سلسلہ بڑھتا جارہا ہے، اس لئے اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھو۔

تین مقصد، تین حکم:

         
دس دن میں، یا اس سے بھی کم دنوں میں جو قرآن کریم ختم کیا جاتا ہے، اس کے تین مقاصد ہوتے ہیں، پس تینوں مقصدوں کے اعتبار سے احکام مختلف ہونگے۔

         
ایک مقصد ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سننا، اس سلسلہ میں جاننا چاھئے کہ دو سنتیں علاحدہ علاحدہ ہیں، ایک: رمضان کے انتیس، یا تیس دنوں میں بیس رکعت تراویح جماعت سے پڑھنا، چاھے الم تر کیف سے ہو، اور دوسری سنت ہے: پورے رمضان میں ایک قرآن کریم سننا، اور ایک قرآن کریم کم سے کم ہے، اگر کوئی دو سنے، تین سنے، سبحان اللہ، جتنا گڑ ڈالوگے، اتنا میٹھا ہوگا، پس دس دن میں قرآن کریم سننے کی ایک نیت تو یہ ہوسکتی ہے، کہ ہم زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سنیں، یہ بہت صحیح نیت ہے، اور اس نیت سے قرآن کریم ضرور سننا چاھئے، ایک شرط کے ساتھ، اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم صحیح پڑھا جائے، یعلمون تعلمون نہ پڑھا جائے، ایسے پڑھنے کا کوئی حاصل نہیں، حدیث شریف میں ہے: رب قارئٍ للقرآن، و القرآن یلعنہ، بعض قرآن پڑھنے والے ایسا قرآن کریم پڑھتے ہیں کہ قرآن کریم ان پر لعنت بھیجتا ہے، کہ تیرا ناس ہو، کم بخت مجھے کیوں بگاڑ رہا ہے، ہمارے دیوبند میں تقریباﹰ سو مسجدیں ہیں، وہاں صرف چھتہ مسجد میں تین پاروں والا قرآن کریم ہوتا تھا ، جہاں حضرت مفتی محمود صاحب گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ اعتکاف کیا کرتے تھے، اور سہارنپور، دیوبند سے بھی بڑا ہے، وہاں تین پاروں والا قرآن کریم کہیں نہیں ہوتا تھا، صرف حضرت شیخ زکریا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں تین پاروں والا قرآن کریم ہوتا تھا، جہاں حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ اعتکاف کیا کرتے تھے، دس دن میں ایک قرآن کریم ختم ہوتا تھا، پھر اگلی رات سے دوسرا شروع ہوجاتا تھا، اور جو پہلے عشرے میں سننے والے ہوتے تھے، وہی اگلے عشرہ میں بھی سننے والے ہوتے تھے، کوئی نئے مصلی نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہاں مریدین ہوتے تھے، جو دن رات اذکار میں لگے رہتے تھے، ان کےلئے تین قرآن کریم سننا مشکل نہیں تھا، تو یہ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سننا، ایک بہترین مقصد ہے، اور اس مقصد کے پیشِ نظر اگر کوئی دس دن والا قرآن کریم سنتا ہے، تو یہ نہ صرف جائز ہے، بلکہ ایسا اس کو ضرور کرنا چاھئے۔

         
دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دس دن میں قرآن کریم پورا ہوجائے گا تو پھر چھٹی مل جائے گی، پھر جی چاھے گا، تراویح پڑھیں گے، اور نہیں چاھے گا، نہیں پڑھیں گے، یہ کوئی شرعی مقصد نہیں ہے، میں نے کہا تھا کہ دو سنتیں الگ الگ ہیں، آپ نے ایک سنت تو پوری کرلی، لیکن دوسری سنت چھوڑ دی، لٰہذا یہ کوئی اچھا مقصد نہیں ہے۔

         
تیسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک قرآن کریم دس دن میں سن لیں گے، پھر جہاں چاھیں گے، کسی نہ کسی مسجد میں پابندی سے تراویح پڑھیں گے، ہماری ترتیب فوت نہیں ہوگی، کیونکہ ہم ایک قرآن کریم پہلے سن چکے ہیں، یہ مقصد دیکھنے میں تو خوبصورت ہے، مگر بےکار مقصد ہے، کیونکہ تراویح سبھی مسجدوں میں ایک ہی ترتیب سے ہوتی ہیں، یا ہونی چاھئے، پس اگر آج یہاں پڑھو، کل وہاں پڑھو، تو کوئی فرق نہیں پڑتا، سب جگہ ایک ہی ترتیب سے قرآن کریم چلتا ہے، البتہ کبھی کبھی گڑبڑ ہوجاتی ہے۔

         
الغرض یہ مقصد خوبصورت ہے، مگر کوئی اہم مقصد نہیں، پہلا مقصد ہی صحیح ہے، کہ اگر آپ کو مہینہ میں تین یا اس سے زیادہ قرآن کریم سننے ہیں، تو شوق سے سنو، مگر میرے خیال سے اس مقصد سے سننے والا شاید ہی کوئی ملے، زیادہ تر وہ ہیں، جو یہ سوچتے ہیں کہ بھائی! ایک بار لگ جاؤ، پھر چھٹی مل جائے گی، اور یہ کوئی اچھا مقصد نہیں ہے، اور اس مقصد سے یہ دس دن والا قرآن کریم دس سال گذرتے گذرتے پانچ دن پر آجائےگا، پھر دس سال اور زندہ رہے، تو یہ تین دن پر آجائیگا، اس لئے میرے بھائیو! یہ جو سلسلہ چل رہا ہے، میرا خیال ہے کہ یہ لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ٹھیک نہیں ہے۔

وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن
مکمل تحریر >>